ابنا: نتن یاھو کا یہ بیان گذشتہ دنوں صہیونی حکومت کی پارلیمنٹ میں سامنے آیا اور نتن یاھو نے دعوی کیا کہ عرب ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ان کا دشمن نہیں ہے اور یہی موضوع اس بات کا سبب بنا ہے کہ وہ اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان خفیہ تعلقات سے پردہ اٹھارہے ہیں۔خفیہ تعلقات کے نیٹ ورک وہ ممالک شامل ہیں کہ جن کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
قطر و سعودی عرب ، خلیج فارس کے علاقے کے ان عرب ممالک میں شامل ہیں کہ جو اسرائیل کے ساتھ خفیہ و آشکارہ تعلقات میں پیش پیش رہے ہیں۔عرب و اسرائیل مذاکرات کا پہلا دور اکتوبر 1991 میں اسپین کی میزبانی میں منعقد ہوا اور امریکہ نے ان مذاکرات کی نگرانی کی تھی اور اس مذاکرات کے ایجنڈے میں اسرائیل کے ساتھ عربوں کے تعلقات کی برقراری پر عائد پابندی کو منسوخ کرنے کا مسئلہ سرفہرست تھا۔ امریکہ کے اس وقت کے حکام نے ان مذاکرات میں بہت زیادہ کوشش کی کہ اسرائیل و عربوں کے مذاکرات کے طلسم کا توڑنے کے ساتھ ، اسرائیل کو چالیس سال بعد ، مشرق وسطی کے علاقے میں سیاسی و اقتصادی گوشہ نشینی سے باہر نکال دے۔ اس روسے امریکہ کے اس وقت کے صدر جارج بش نے عرب دنیا سے وعدہ کیا کہ اسرائیل و عربوں کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں عرب رہنماؤں کے شرکت کی صورت میں نہ صرف فلسطین کے مسئلہ کے حل کے لئے راستہ ہموار ہوگا بلکہ عرب –
اسرائیل کے درمیان تجارتی و اقتصادی راہیں بھی کھل جائیں گی اور علاقے میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ اس لحاظ سے ، دو جابنہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ، عربوں اور صہیونی حکومت کے درمیان مختلف مسائل منجملہ اقتصادی و تجارتی شعبوں اور مہاجرین و پانی کے حوالے سے چند جانبہ مذاکرات بھی منعقد ہوئے تاکہ عربوں و صہیونی ریاست کے درمیان سفارتی تعلقات کی برقراری کے لئے زمین ہموار ہو۔ عرب ممالک میں اردن ، قطر اور سعودی عرب ، صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس روسے ان ممالک و صہیونی حکومت کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا آغاز ہوا تا کہ عرب –
اسرائیل مذاکرات کے علنی ہونے کی تکمیل ہوسکے۔ اردن نے پی ،ایل ، او کے بعد 1994 میں صہیونی ریاست کے ساتھ باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات برقرار کیئے اور قطر 1990 کی دہائی میں صہیونی ریاست کے ساتھ مشترکہ تجارتی چیمبر کے افتتاح کے ساتھ اس حکومت کے قریب ہوا۔ ہرچند کہ سعودی عرب نے صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہمیشہ خفیہ رکھا ہے اور کبھی بھی عوام کے ردعمل کے ڈر سے ان تعلقات کو برملا کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ صہیونی اخبار ھآرتص نے اس سے قبل بھی اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری میں سعودی عرب کے دلی جھکاؤ کے حوالے سے پردہ اٹھایا تھا۔ اس صہیونی اخبار نے لکھا تھا کہ سعودی عرب کے ایک جنرل نائب بن احمد آل سعود نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر اسرائیل ، امیر عبداللہ کے سازشی منصوبے کے مطابق عمل کرے تو سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری کے حوالے سے اپنی آمادگی کا اعلان کردے گا اور سعودی عرب کا یہ عمل دنیا کے دیگر عرب ممالک پر اثراندار ہوگا۔
تجربہ سے نشاندہی ہوتی ہے کہ علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات کے رونما ہونے کے بعد سعودی عرب نے بحران کھڑا کرنے کے ساتھ صہیونی ریاست کے فائدے میں ، بحرین و یمن میں اپنی فورسز بھیج کر اور مصر میں مالی امداد دے کر ان ملکوں میں رونما ہونے والی صورت حال کو تبدیل اور رونما ہونے والے انقلابات کو منحرف کرنے کی کوشش کی ہے اور بلآخر شام میں بحران کو ہوا دینے کے ساتھ ، صہیونی ریاست کا ہمنوا بن گیا ہے۔ عرب ممالک کے حکمران برسوں سے علاقے میں صہیونی حکومت کے اہداف و مقاصد کے دائرے میں دوہری و تفرقہ انگیز پالیسیوں پر عمل کررہے ہیں، ان کی یہ پالیسیاں علاقے میں بدامنی و بحران کھڑا ہونے کا باعث بنی ہیں۔
عراق میں رونما ہونے والے دھشتگردانہ حملوں میں سعودی عرب کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، عراق کے اکثر سیاسی حلقے اس ملک میں رونما ہونے والے دھشتگردانہ واقعات کے تانے بانے آل سعود کی حکومت سے جوڑتے ہیں کیونکہ کہ عراق میں دھشتگردانہ کاروائیاں کرنے والے گروہوں کو سعودی عرب ہی سے مالی امداد ملتی ہے۔ ایک عراقی سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ آیندہ انتخابات منعقد کرانے اور انتظامی امور میں عراقی حکومت کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگانے کی غرض سے سعودی عرب اور بعض علاقائی ممالک دہشت گرد گروہوں کی ملک میں پر تشدد کارروائیوں کے لیے حمایت کر رہے ہیں۔
پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں عراق کے سیاسی تجزیہ نگار سعد المطلب نے عراق میں حالیہ مہینوں دہشت گردانہ حملوں کی لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی کچھ سیاسی پارٹیاں ان سازشوں میں ملوث ہیں، ان پارٹیوں کو سعودی عرب اور قطر کی حمایت حاصل ہے۔مطلب نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں جاری تشدد کے سازشکاروں کا مقصد حکومت کو کمزور کرنا اور موسم بہار میں ہونے والے عام انتخابات ميں شرکت سے عوام کو دور رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراقی عوام اس سازش سے آگاہ ہیں اور گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی سعودی سازشوں پر پانی پھر جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔عراق میں موجود القاعدہ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، ان حملوں کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔
.......
/169