ابنا: واشنگٹن سے رپورٹ کے مطابق صدرباراک اوباما نے پير کے روز کہا کہ ريپبليکن اراکين کے تعاون کي صورت ميں بجٹ کا بحران حل ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتي اداروں کے شٹ ڈاؤن سے امريکي اقتصاد کو کافي نقصان پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کيا کہ سترہ اکتوبر تک يہ مسئلہ حل نہ ہوا تو امريکي اقتصاد پر مہلک وار لگے گا۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر باراک اوباما نے پير کو ايک بار پھر کانگرس کے سينيئر اراکين کو دعوت دي کہ بجٹ اور قرضوں کي سطح کے بارے ميں وائٹ ہاؤس سے مذاکرات کريں ۔ صدر اوباما اس سے پہلے بھي ريپبليکن اراکين کانگرس سے مذاکرات کرچکے ہيں جو بے نتيجہ رہے ۔امريکا ميں بجٹ اور قرضوں کي سطح کے بارے ميں حکومت اور حزب اختلاف کے درميان کوئي اتفاق رائے نہ ہونے سے پہلي اکتوبر سے شٹ ڈاؤن چل رہا ہے جس کے نتيجے ميں آٹھ لاکھ سے زائد سرکاري ملازمين بغير تنخواہ کي جبري چھٹي پر بھيج ديئے گئے ہيں ۔ شٹ کي وجہ سے بہت سے سرکاري ادارے بند کرديئے گئے ہيں اور متعدد اہم تحقيقاتي منصوبے معطل کرديئے گئے ہيں جن ميں نيشنل ڈيزيز کنٹرول سينٹر، نيشنل سائنس اکيڈمي، اور نيشنل ہيلتھ انسيٹي ٹيوٹ جيسے اہم ادارے شامل ہيں۔
رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ نيشنل ڈيزيز کنٹرول سينٹرکے دو تہائي جبکہ نيشنل ہيلتھ انسٹي ٹيوٹ کے تين چوتھائي کارکن جبري چھٹي پر بھيج ديئےگئے ہيں۔ نيشنل سائنس فاونڈيشن کے بھي اٹھانوے في صد کارکنوں کو جبري چھٹي پر بھيج ديا گيا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شٹ ڈاؤن کي وجہ سے بہت سے سائنسدان بھي گھر بيٹھ گئے ہيں جن ميں متعدد نوبيل انعام يافتہ سائنسدان بھي شامل ہيں۔
.......
/169