ابنا: ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر علی لاریجانی نےاس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شام پر فوجی حملہ شام کے بحران کا حل نہیں ہے کہا کہ شام کا بحران صرف مذاکرات کے ذریعہ حل ہو کیا جاسکتاہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی نے علاقہ اور دنیا بھر میں دہشتگردوں کی دہشتگردانہ کاروائیوں کی جانب ،کہ جو تشویش میں اضافہ کا باعث بنی ہیں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کی سمجھ میں یہ آگیا کہ شام پر فوجی حملے کی صورت میں انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔علی لاریجانی نے تہران اور بغداد کے تجارتی روابط کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران عراق کے مابین تجارت کا حجم گیارہ ارب ڈالر ہے جب کہ دونوں ممالک میں تجارتی فروغ کی گنجائش اس سے کہیں زیادہ ہے ۔عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے بھی اس کانفرنس میں کہا کہ بحران شام کے حل کے حوالے سے ایران عراق کا تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے کہا فوجی مداخلت سےشام کا بحران حل نہیں ہوسکتا بلکہ شام میں ڈیمو کریسی کی بحالی کے لئے سیاسی راہ حل کی تلاش ضروری ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ کیمیائی ہتھیار کی نابودی کے بہانے شام پر فوجی حملہ علاقہ میں بحران میں اضافہ کا باعث بنے گا اور اس درمیان علاقہ میں سب سے زیادہ نقصان عراق کو پہنچے گا۔......./169
14 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463233
اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے پارلیمانی اسپیکروں کی تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ملکوں کے پارلیمانی اسپیکروں نے بحران شام کےسیاسی راہ حل پر تاکید کی.