18 اگست 2013 - 19:30
مصر میں ہلاکتوں کی تعداد1000 سے اوپر پہنچ گئی

مصر میں اخوان المسلمین اور سکیورٹی دستوں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد1000 سے اوپر پہنچ گئی ہے جبکہ اخوان المسلمین نے عقب نشینی کرتے ہوئے مظاہروں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: مصر میں اخوان المسلمین اور سکیورٹی دستوں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد1000 سے اوپر پہنچ گئی ہے جبکہ اخوان المسلمین نے عقب نشینی کرتے ہوئے مظاہروں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔مصری فوج نے سعودی عرب کے تعاون سےگزشتہ روز بھی 79 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، اخوان المسلمون نے مجبور ہوکرملک میں مزید مظاہرے منسوخ کردیئے ہیں۔مصر میں اپنے ہی عوام پر فوج کشی کے 5 دن میں ،ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ہوچکی ہے۔کئی ہزار زخمی ہیں جن میں بہت سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔مساجد ،مردہ خانوں میں بدل گئیں۔ آج بھی مصری مظاہرین کے خلاف فوجی جارحیت جاری ہے۔لیکن مرسی کے حامی دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔گزشتہ روزاخوان المسلمون کے 42 رہنماوٴں کو گرفتار کرلیا گیا۔مصر میں اس قتل عام پر اس کے ساتھ تعلقات رکھنے ہیں یا نہیں؟غور کیلئے یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس آج ہورہا ہے۔مصر کے حالات پر یورپی یونین متحرک ہے لیکن اسلامی تعاون تنظیم کے کان پر جوں تک نہیں رینگی جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اکثر اسلامی ممالک سعودی عرب سے وابستہ ہیں اور سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ ہے سعودی عرب کی مذمت کئے بغیر مصری فوج کی مذمت کرنا باکل بیکار ہے کیونکہ مصری فوج نے مصر میں سعودی عرب کے نقشہ کو سعودی عرب کی امداد کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ جماعت اسلامی وشغیرہ جیسی تنظیمیں جب تک سعودی عرب کی کھل کر مذمت نہیں کرتیں تب تک امریکہ کے خلاف ان کے نعرے بالکل کھوکھلے ثابت ہوں کیونکہ یہ بات بالکل واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مصر کے حالیہ واقعات اور مصر میں فوجی کودتا کی سعودی عرب اور امارات نے کھل کر حمایت کی ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے مصرمیں کودتا کرنے والوں کو 12 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی اور سعودی عرب سمیت خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے مصرفوج کے بھیانک اقدام کی نہ صرف مذمت نہیں کی بلکہ مصری فوج کی تعریف اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان سعودی عرب کی گھناؤنی سازشوں کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کرتے؟۔

.......

/169