16 اگست 2013 - 19:30
ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام اور یوکیا آمانو کا زاویۂ نگاہ

اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے ایک رکن کےطور پر اس ایجنسی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کررہا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف اس ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے بھی امریکی ڈکٹیشن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بارہا کیا ہے۔ یوکیا آمانو نے حال ہی میں رشیا ٹوڈے ٹی وی چینل کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں جو انٹرویو دیا ہے اس میں بھی اس نکتے کی جانب اشارہ کیاہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے ایک رکن کےطور پر اس ایجنسی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کررہا ہے۔ یہ ایک ایسی  حقیقت ہے جس کا اعتراف اس ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے بھی امریکی ڈکٹیشن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بارہا کیا ہے۔ یوکیا آمانو نے حال ہی میں  رشیا ٹوڈے ٹی وی چینل کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں جو انٹرویو دیا ہے اس میں بھی اس نکتے کی جانب اشارہ کیاہے۔ یہ انٹرویو ایران میں ڈاکٹر حسن روحانی کی صدارت کے ابتدائي دنوں میں کیا گيا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے چونکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کو پرامن ثابت کرنے کے سلسلے میں زیادہ شفافیت پر تاکید کی ہے اس لۓ سیاسی حلقے اس انٹرویو کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان نئے مواقع سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں؟اس سلسلے میں یوکیا آمانو کا خيال ہےکہ ایران کے نئے صدر ڈاکٹر حسن روحانی  ایٹمی امور کے بارے میں اچھی معلومات رکھتے ہیں۔ یوکیا آمانو نے کہا ہے کہ وہ اسی بنیاد پر ایران کے ساتھ مفید مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سلسلے میں مختلف عوامل موجود ہیں۔ اگرچہ یوکیا آمانو نے ان عوامل اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے مدنظر امور کی تفصیلات کے ذکر سے گریز کیا لیکن انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کہا کہ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ہم نے یہ بھی کبھی نہیں کہا ہےکہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہم نے یہ کہا ہے کہ بعض سوالات ہیں جن کا ایران کو جواب دینا چاہۓ اور ان سوالوں کا جواب حاصل ہوئے بغیر ہم ان کو کلیئرنس نہیں دے سکتے ہیں اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔یوکیا آمانو نے مزید کہا کہ سفارت ایک ایسی روش ہے جو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لۓ اختیار کی ہے۔ یوکیا آمانو نے اس کے ساتھ یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ جیسے ممالک بھی سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ اس لۓ بہترین کام ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کی ترغیب ہے۔یہ بیانات در حقیقت یوکیا آمانو کے سابقہ بیانات کی تکرار ہی ہے جن  میں وہ ہر بار فوجی سائٹ پارچین کے معائنے جیسے مذاکرات کے ایجنڈے سے تعلق نہ رکھنے والے امور کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ان مطالبات کو ایسی حالت میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے کہ جب یورینیئم کی افزدوگی سمیت ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی زیر نگرانی جاری ہیں۔ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی اس سے قبل سنہ دو ہزار پانچ میں دو بار پارچین سائٹ کا معائنہ کرچکی ہے۔ اگرچہ ایران اس سائٹ کا معائنہ کرانے کا پابند نہیں تھا لیکن اس نے نیک نیتی سے کام لیتے ہوئے اس معائنے کا راستہ ہموار کیا۔ یوکیا آمانو کی جانب سے ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کو پیش کی جانےوالی رپورٹوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ بنابریں اس میں تعجب کی کوئي بات نہیں ہے کہ یوکیا آمانو نے کس طرح ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ربط ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے ساتھ جوڑنے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ممکن ہےکہ ایران سوالات کے جواب دینے کے سلسلے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ یہ ایسی حالت میں ہےکہ جب ایران سنہ دو ہزار چھ میں طے شدہ اصولوں کے تحت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے چھ سوالوں کے جواب دے چکا ہے اور اس ایجنسی نے بھی باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی جانب سے جواب وصول کر لۓ ہیں اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق شبہات و شبہات ختم ہوگۓ ہیں۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ کو طے  شدہ اتفاق رائے کے مطابق ایران کا ایٹمی معاملہ بورڈ آف گورنرز کے ایجنڈے سے خارج کرنا تھا لیکن امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے انھوں نے آخری لمحات میں اس اتفاق رائے پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ یوکیا آمانو نے بارہا بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوی کیا ہےکہ ممکن ہے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہو ۔ یوکیا آمانو نے ہر مرتبہ غلط  رپورٹوں کی بناء پر دعوی کیا کہ ممکن ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لۓ کوشاں ہو۔ ایک مرتبہ یوکیا آمانو نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کو اس دعوے کے صحیح ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ رویہ اس ظن کی تقویت کا سبب بنا ہے کہ امریکہ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے ایران پر الزام لگانے اور دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں آپس میں کام تقسیم کر لیا ہے اور یہ رویہ سیاسی اعتبار سے خاص معنی و مفہوم کا حامل ہے۔اصل مسئلہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یوکیا آمانو کا زاویۂ نگاہ ہے جو انھوں نے رشیا ٹوڈے کو اپنے انٹرویو کے دوران بیان کیا ہے۔ حقیقت یہ  ہےکہ یوکیا آمانو ہمیشہ یورپ کے اس یکطرفہ اور غیر مدلل مفروضے  کی تکرار  کرتے رہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہو۔ایران اس سے قبل ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے حکام کو تکنیکی ذمےداریوں کے دائرہ کار سے خارج اس سیاسی رویۓ کے بارے  میں کی یاددہانی کراچکا ہے لیکن ابھی تک اسے اس بارے میں کوئي قانع کنندہ جواب نہیں دیا گيا ہے۔ یوکیا آمانو کے حالیہ بیانات بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہیں۔ اور ان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں ان کا موقف ابھی تک حقائق سے دور ہے۔ البتہ اسلامی جمہوریہ ایران اس طرح کے بیانات سے قطع نظر کرتے ہوئے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ اشتراک عمل کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے اور وہ بدستور اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق شکوک و شبہات کے خاتمے اور  عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی نیک نیتی کے اظہار کے لۓ اس اشتراک عمل کا پابند ہے۔

.......

/169