ابنا: دمشق اسٹرٹیجیک اسٹڈیز سنٹر کے سربراہ بسام ابوعبداللہ نے کہا ہے کہ لبنان میں شام کے حامی سیاسی مبصر محمد ضرار جمو کے قتل کی روش سے ظاہر ہوتا ہےکہ اس میں صیہونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد ملوث ہے۔ بسام ابوعبداللہ نے شام کے ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو میں کہا کہ شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی جانب سے صحافیوں، فن کاروں اور تجزیہ کاروں اور ماہرین کو قتل کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ دہشتگرد اپنے آقاؤں کے اشاروں پر شام کی تہذیب وتمدن اور قومی شخيصتوں کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شام کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کے اھداف کھل کر آگئےہیں اور شام کے عوام تکفیری وہابی طرزفکر سے مقابلہ کرنے میں بھاری قیمت چکارہے ہیں۔ قابل ذکرہے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں نے گذشتہ روز محمد ضرار جمو کو گولی مار کرقتل کردیا تھا۔ محمد ضرار جمو عرب ماجرین کی عالمی تنظیم کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور سیاسی امور کے ماہر تھے۔ دہشتگردوں کے حملے میں ان کے دو ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔ محمد ضرار جمو شام کے حامی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
17 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 442281
دمشق اسٹرٹیجیک اسٹڈیز سنٹر کے سربراہ بسام ابوعبداللہ نے کہا ہے کہ لبنان میں شام کے حامی سیاسی مبصر محمد ضرار جمو کے قتل کی روش سے ظاہر ہوتا ہےکہ اس میں صیہونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد ملوث ہے۔