ابنا: سنیچر کی شب ابوقتادہ کو بیلمارش کی جیل سے نارتھ ہولٹ کے ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا جہاں برطانوی ایئر فورس کا طیارہ انہیں واپس ان کے آبائی ملک میں لے جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔برطانیہ گزشتہ دس برسوں سے مسلمان مبلغ کو برطانیہ سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا اور برطانوی حکومت ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں سترہ لاکھ پونڈ خرچ کر چکی ہے۔برطانیہ کی وزیر داخلہ ٹریسا میہ کا کہنا ہے کہ ابوقتادہ کی ملک بدری بہت سی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ برطانوی عوام اس فیصلے کا خیر مقدم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک خطرناک انسان اب ہماری سرحد میں موجود نہیں ہے اور اب وہ اپنے ملک میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرے گا۔برطانیہ کی حکومت نےابوقتادہ کو ملک سے نکالنے میں ناکامی کے بعد اردن کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تشدد کے ذریعے حاصل کی جانے والی شہادت کو ان کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ ابوقتادہ کے ہمراہ طیارہ میں اردن کے دیگر چھ باشندے موجود ہیں جس میں سے تین سکیورٹی اہلکار، ایک وکیل اور ڈاکٹر شامل ہے۔ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی تھی۔



