5 جولائی 2013 - 19:30
امريکا کا جاسوسي اسيکينڈل

نيکارا گوئے نے امريکي جاسوسي کي دستاويزات جاري کرنے والے سابق امريکي ايجنٹ ايڈورڈ اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کے لئے اپني آمادگي کا اعلان کيا ہے- اسي کے انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹرنيشنل نے بھي اسنوڈن کي حمايت پر زور ديا ہے -

ابنا:ونيزوئلاکےبعد نيکاراگوائے نے بھي امريکي جاسوسي کا انکشاف کرنے والے امريکي جاسوسي تنظيم  سي آئي اے کے سابق ايجنٹ اور نيشنل سيکورٹي  ايجنسي کے سابق ايڈوائزر ايڈورڈ اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کے لئے اپني آمادگي کا اعلان کيا ہے –ارنا کے مطابق نيکارا گوا کے صدر ڈينيل اورٹگا نے اعلان کيا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کے لئے تيار ہيں-اس سے پہلے جمعے کے روز ونيزوئلا کے صدر نيکولس مادورو   بھي اعلان کرچکے ہيں کہ انہوں نے انساني بنيادوں پر ايڈورڈ اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کا فيصلہ کيا ہے  تاکہ وہ سائمن بوليور اور ہيوگو شاويز کے ملک ميں شمالي امريکا کے سامراج کي دسترس سے محفوظ رہيں –وائٹ ہاؤس نے ونيزوئلا اور نيکاراگوا کي جانب سے اسنوڈن کو سياسي پناہ دينے کے  فيصلے کے اعلان پر کوئي تبصرہ نہيں کيا ہے اور کہا ہے کہ يہ موضوع امريکا کي وزارت قانون سے تعلق رکھتا ہے –   انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹرنيشنل نے بھي اسنوڈن کي حمايت کا اعلان کيا ہے -ايمنسٹي انٹرنيشنل کے سيکريٹري جنرل نے ايڈروڈ اسنوڈن کے کام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعلق سے واشنگٹن کا رويہ غير منصفانہ ہے - انہوں نے کہا کہ اسنوڈن کي تحويل کا امريکي مطالبہ غلط ہے اسنوڈن کو سياسي پناہ حاصل کرنےکا حق حاصل ہے -انہوں نے کہا کہ  خاص طور پر يہ معلوم ہوجانے کے بعد ان کے انکشافات کا تعلق امريکا کے سيکورٹي ادارے کي جانب سے انساني حقوق کي کھلي پامالي سے ہے، ان کو سياسي پناہ ديئے جانے کي مخالفت کرنا انساني اصولوں  اور بين الاقوامي قوانين کے خلاف ہے  -انہوں نے امريکا کي جاسوسي کو وحشتناک بتايا اور کہا کہ گوانتانامو جيل اور اسنوڈن کے انکشافات کي بنياد پر کہا جاسکتا ہے کہ امريکا ميں  قومي سلامتي کي ضرورتوں اور شہريوں کے بنيادي حقوق کے درميان توازن ختم ہوگيا ہے – بتايا جاتا ہے کہ ايڈورڈ اسنوڈن بدستور ،  ماسکو بين الاقوامي ہوائي اڈے کے ٹرانزٹ لاؤنج ميں موجود ہيں -   ادھر ونيزوئلا کے صدر نے يورپي ملکوں کي فضائي حدود کو بوليويا کے صدر کے طيارے کے لئے بند کئے جانے کے واقعے کے پيچھے سي آئي اے کا ہاتھ بتايا ہے –نيکولس مادورو نے ايک گفتگو ميں کہا ہے کہ بوليويا کے صدر ايوو مورا ليس کے طيارے کو اپنے حدود ميں داخل ہونے کي اجازت نہ دينے کا فيصلہ اٹلي، پرتگال اور فرانس نے سي آئي اے کي ہدايت پر کيا تھا - قابل ذکر ہے کہ بوليويا کے صدر ماسکو ميں گيس برآمد کرنے والے ملکوں کے اجلاس ميں شرکت کے بعد اپنے ملک واپس جارہے تھے کہ مذکورہ تينوں ملکوں نے ان کے طيارے کو اپني فضائي حدود سے گزرنے کي اجازت دينے سے انکار کرديا جس کے بعد ان کے طيارے کو آسٹريا ميں ايمرجنسي لينڈنگ کرني پڑي تھي –اس واقعے کے بعد  بوليويا اور جنوبي امريکا کے دوسرے ملکوں کے سربراہوں نے يورپي ملکوں کے اس اقدام کو بين الاقوامي قوانين کي کھلي خلاف ورزي قرار ديتے ہوئے ، مذکورہ تينوں يورپي ملکوں سے اس سلسلے ميں وضاحت طلب کي تھي –فرانس کي حکومت نے  اس واقعے پر بوليويا سے باضابطہ معافي مانگي ہے - ...../169