30 جون 2013 - 19:30
شیخ الاسلام:مرسی کی رفتارنے آگ کو شعلہ ور کیا

مشرق وسطی کے امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر محمد مرسی سلفی وہابی عقیدے سے منسلک ہیں جنھوں نے سن‍گين اشتباہات کا ارتکاب کیا ہے اے کاش اخوان المسلمین کسی اعتدال پسند رہنما کو مصری صدر کے طور پر منتخب کرتی ،تو مصر کے حالات اس طرح خراب نہ ہوتے۔

ابنا: پارلیمنٹ کے بین الاقوامی امور کے مشیر اور مشرق وسطی کے امور کے ماہر جناب شیخ الاسلام نے کہا ہے کہ اسرائیل میں امریکہ کے سابق سفیر اور امریکہ کے سابق نائب وزیر خارجہ مارٹن ہنریک نے2006 میں ایک مقالہ حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کی 33 روزہ جنگ کے بعد تحریر کیا جسے 28 اگست 2006 میں ہاآرٹض اخبار نے منتشر کیا، اس مقالہ میں لکھا کہ شیعہ اسرائيل کے خلاف ایک طاقت اور قدرت بن کر ابھر رہے ہیں اور شیعوں نے اپنے ہمراہ سنی تنظیموں حماس ، جہاد اسلامی اور دیگر سنی فلسطینیوں کو بھی لے لیا ہے لہذا ایسے اقدامات انجام دینے چاہییں جن کی بنا پر سنی اور شیعوں کے درمیان اختلاف ایجاد ہوجائے۔شیخ الاسلام نے کہا کہ شیعہ اور سنیوں میں اختلاف کا منصوبہ امریکی، اسرائيلی اور برطانوی منصوبہ ہے جس پر 2006 کے بعد دقت کے ساتھ کام کیا جارہا ہے، علاقائي اور عرب خفیہ ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دے رہی ہیں ترکی ، قطر، سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اس سلسلے میں امریکہ، اسرائيل اور برطانیہ کا تعاون کررہی ہیں جبکہ بعض افراد نادانستہ طور پر تعاون کررہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ مارٹین کے 92 سالہ برطانوی استاد کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ مشرق وسطی کومذہبی اور قومی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے اور اس طرح اسرائيل کا وجود بھی منطقی بن جائےگا۔ انھوں نے کہا کہ مصر میں شیعوں کا بہیمانہ قتل امریکی، اسرائيلی اور برطانوی پالیسی کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرسی نے سنگين اشتباہات کا ارتکاب کیا وہ مسلمان اوراخوان المسلمین کا رکن ہے اسے مصری عوام نے منتخب کیا ہم نے بھی اس کی پشتپناہی کی ۔ تہران میں اس نے سنگين اشتباہ کا ارتکاب کیا اسے پہلے ناوابستہ ممالک کی سربراہی تحویل دینی چاہیے تھی اس کے بعد اسے شام کے بارے میں کوئي بات کرنی چاہیے تھی  لیکن اس نے ناوابستہ ممالک کے سربراہ کے عنوان سے شام کے بارے میں اشتعال انگيز خطاب کیا۔شیخ الاسلام نے کہا کہ مرسی کی جاہلانہ رفتار نے مصر اور علاقہ کے ممالک میں لگی ہوئی آگ کو ختم کرنے کے بجائے مزید شعلہ ور کیا۔ مرسی ایک سلفی وہابی عقیدہ کا حامل شخص ہے جس نے سلفیوں کے قاہرہ میں ایک اجلاس میں دہشت گردوں کو شام بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ شیخ الاسلام نے نے کہا کہ ایک ایسے ذمہ دار شخص کومصر کا صدر ہونا چاہیے جو مصری عوام کی شان کے مطابق ہو۔ مصریوں نے مرسی کو پہچان لیا کہ وہ اسلامی امنگوں اور مصری عوام کے انقلاب کے خلاف عمل کررہا ہے لہذا انھوں نے اسے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔...../169