18 جون 2013 - 19:30
برازیل میں مسلسل احتجاج، لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

عمومی خدمات کی بد حالی، آسمان چھوتی مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاکھوں لوگ مسلسل دوسرے روز برازیل کے کئی بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔

ابنا: برازیل کے سب سے بڑے شہر ساؤ پالو میں منگل کی شب تقریبا 50 ہزار لوگوں نے مظاہرے میں شرکت کی جو کئی گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ چھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔شہر میں مظاہرین کے چند نقاب پوش گروہوں نے دکانوں اور بینکوں کو نقصان پہنچایا، ان گروہوں کی تشدد روکنے کی کوششیں کرنے والے دیگر مظاہرین کے ساتھ چھڑپیں بھی ہوئی۔ایک ٹی وی چینل کی گاڑی کو میئر کے دفتر کے سامنے آگ کے حوالے کر دیا گیا، اس دفتر کی کھڑکیاں پہلے ہی توڑ دی گئی تھیں۔ اس موقعے پر پولیس کو میئر کے دفتر کی عمارت کے اندر پناہ لینا پڑی اور مظاہرین نے پتھراؤ کر کے عمارت کو نقصان پہنچایا۔ مظاہرین نے شہر کے ایک اور حصے میں ایک پولیس اسٹیشن کو نذر آتش بھی کر دیا۔یہ مظاہرے ایک ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، مظاہرین بہتر تعلیم و بہتر عوامی خدمات اور بد عنوانی کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ملک کے دیگر شہروں ریو ڈی جنیرو اور مناس غریس میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔دوسری جانب برازیل کنفیڈریشنز فٹبال کپ کی میزبانی بھی کر رہا ہے جو کہ سنہ 2014 کے فٹ بال کے عالمی کپ کے مقابلے کی تیاری کا حصہ ہے۔بہت سے مظاہرین نے فٹ بال کے عالمی کپ اور 2016 میں ریو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے اخراجات پر تشویش ظاہر کی ہے۔سنہ انیس سو بانوے سے اب تک ملک کے یہ سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔ اس وقت عوام صدر فرناڈو میلو کی برطرفی کے لیے سڑکوں پر آگئے تھے۔پیر کی شب ساؤ پالو، ریو ڈی جنیرو سمیت تقریباً دس برازیلی شہروں میں دو لاکھ کے لگ بھگ افراد نے مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ملک کی صدر ڈلمہ روسف کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ اتنے شہری ملک میں بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔پیر کے مظاہروں کے بعد ان کا کہنا تھا کہ میری حکومت تبدیلی کے مطالبات غور سے سن رہی ہے۔ مظاہروں کا حجم ہماری جمہوریت کی مضبوطی کی گواہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت چار کڑور افراد کو متوسط طبقے میں لے آئی ہے تاہم ابھی مزید کام باقی ہے۔...../169