10 جون 2013 - 19:30
ایران کے صدارتی انتخابات، دنیا بھر کے 95 ملکوں میں

اسلامی جمہوریہ ایران کے گیارھویں دور کے صدارتی انتخابات کے نامزد امید واروں نے ملکی، علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں اپنے اپنے نظریات بیان کئے ہیں.

ابنا: ایران کے نامزد  صدارتی امید وار " علی اکبر ولایتی " نے کہا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو وہ باصلاحیت خواتین سے امور مملکت چلانے میں کام لیں گے۔ علی اکبر ولایتی نے تہران میں خواتین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی خواتین نے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسی طرح صدام کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ 8سالہ جنگ کے دوران اھم کارنامے انجام دیئے، انہوں نے کہا کہ سیاسی اور اقتصادی منصوبوں پر درست عمل درآمد کیا جائے تو ایران علاقے کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ایران کے ایک اور صدارتی امیدوار اور دارالحکومت تھران کے میئر " محمد باقر قالیباف نے اصفھان شہر میں انتخابی مھم کے دوران عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں آئندہ بننے والی حکومت میں جھادی فکرو سوچ کی ضرورت ہے اور اسی فکر و سوچ کی وجہ سے اختلاف، تھمت اورجھگڑے کی کوئی گنجايش نہیں رہ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اسلامی انقلاب کو دشمنوں کی جنگ کا خطرہ نہیں ہے بلکہ دشمن ایران کے اسلامی انقلاب کو نا کام ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ھیں۔ محمد باقر قالیباف نے اقتصادی و سیاسی مشکلات کے حل کو اپنی ممکنہ حکومت کی ترجیحات میں سے قرار دیا اور کہا کہ ایران کی مشکلات ہرقسم کے قومی ، نسلی ، مذہبی اور ثقافتی امتیازی سکوک سے بالا تر ہوکر اور بہتر ایڈ منسٹریشن کے ذریعے حل کی جاسکتی ہیں ۔ایک اور صدارتی امیدوار " حسن روحانی "نے اپنی انتخابی مھم کے دوران ایران کے خلاف مغرب کی یکطرفہ پابند یوں کے مقابلے کے لئے اپنے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مناسب ڈپلومیسی اور ایران کے خلاف وجود میں آنے والے اتفاق کو ختم کرنے کے ذریعے ، پابند یوں کی پالیسی کوناکام بنایا جاسکتاہے ۔ صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار " سعیدجلیلی " نے مشھد مقدس میں عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےجوہری حق کے دفاع کوایرانی عوام کا دفاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام دشمن کو ایسا سبق سکھانا چاہتی ہے تاکہ دشمن اس کے بعد ایرانی عوام کے حق کو للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران دنیا کے دس ایٹمی ملکوں میں شامل ہے اور ان گنجائشوں کو ایران کے غیور دانشوروں نے پیدا کیا ہے ۔ایک اور صدارتی امیدوار " محسن رضائی نے صد ارتی انتخابات میں اپنے نامزد ہونے کی ایک وجہ ، عوام اور حکومت کے تعلقات کی بہتر برقراری بیان کی اور کہا کہ عوام سیاسی میدان میں موجود ہیں ، لیکن اقتصادی عمل میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ۔ایران کے ایک اور صدارتی امیدوار " سید محمد غرضی " نے بھی تھران میں ایک ٹیلیویژن انٹرویو میں کہا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھیں گے ۔یہ بیانات ایسی صورت حال میں سامنے آرہے رہیں کہ اس وقت ایران کے صدارتی نامزد امیدواروں کے درمیان انتخابی مھم زور و شور سے جاری ہے  جس میں تمام صدارتی امیدوار اپنے اپنے انتخابی پروگراموں کا دفاع کررہے ہیں ۔یاد رہے کہ ایران کے گیارویں دور کے صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ 14 جون کو پورے ایران میں ہوگی۔ابتک دو صدارتی امیدوار  ڈاکٹر حداد عادل اور ڈاکٹر محمد عارف اپنے ہم فکر امیدواروں کے حق میں بیٹھ گئے ہیں۔......./169