ابنا: ترکي کے جنوبي اور سرحدي شہر ريحانلي کے باشندوں نے سنيچر کو ترک حکومت کي شام مخالف پاليسيوں کے خلاف پرامن مظاہرہ کيا جس کو پوليس نے تشدد کے ذريعے روکنے کي کوشش کي -ترکي کي پوليس نے مظاہرين کو منتشرکرنے کے لئے آنسو گيس اور پاني کي بوچھار کا استعمال کيا جس کے نتيجے ميں مظاہرين اور پوليس کے درميان شديد جھڑپ ہوئي ہے - ريحانلي شہر کے باشندوں نے يہ مظاہرہ پچھلے دنوں اس شہر ميں ہونےوالے ہولناک دہشتگردانہ بم دھماکوں ميں مارے گئے افراد کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردي کے لئے کيا تھا - مظاہرين ترک وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے -مظاہرين کا کہنا تھا کہ ترک حکومت نے اس قسم کي دہشتگردانہ کاروائيوں کو روکنے کے لئے ضروري اقدامات نہيں کئے ہيں -

مظاہرے ميں شريک لوگوں کا کہنا تھاکہ يہ بہت ہي افسوس کي بات ہے کہ ترکي کي حکومت کي رضامندي اور اجازت سے دہشتگرد عناصر آزادانہ طريقے سے ترکي کي سرحدوں پر آمد و رفت کرتے ہيں اور شام ميں دہشتگردانہ اقدامات انجام دينے کے لئے ترکي کي سرحدوں کو استمعال کرتے ہيں مظاہرين نے خبردار کيا کہ اگر ترک حکومت نے شام مخالف اپني پاليسي کو جاري رکھا تو اس قسم کے مزيد دہشتگردانہ اقدامات کا خطرہ اپني جگہ موجود رہے گا -مظاہرين کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک کو سامراجي طاقتوں کي جنگ کا حصہ نہيں بننے ديں گے -
.....
/169