12 مئی 2013 - 19:30

کوئٹہ میں ایک اور بڑی تباہی، آئی جی کوئٹہ مشتاق سکھیرا کے گھر کو بارودی ٹرک کے زریعے دھماکے سے اڑا دیا۔ تاہم آئی جی کوئٹہ اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ اس حملے میں ۶ افراد کی جان چلی گئی۔

ابنا: دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے گورنر ہائوس، وزیر اعلی ہائوس، سول سیکریٹریٹ، کمشنر آفس اور کوئٹہ پریس کلب سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
دھماکے کے وقت پریس کلب کے باہر بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھی جو کہ اس دھماکے کی زد میں آگئی اور ۷۰ سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے ٹرک کو آئی جی بلوچستان کے گھر میں داخل کرنے کی کوشش کی مگر ٹرک گھر کے باہر موجود بڑے بڑے پتھروں سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ دھماکے کے بعد ریلی میں موجود مسلح افراد نے اندھےا دھند فائرنگ کر دی۔
دھماکے میں تقریبا ۲۰۰۰ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ۲۰ فٹ لمبا اور ۷ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا اور تباہ ہونے والے ٹرک کے پرزے سرکاری عمارتوں کے اندر جا گرے۔
ادھر بلوچستان کے ہی علاقے خاران میں سڑک کنارے بم دھماکے سے ۱ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور ۷ افراد زخمی ہو گئے۔

.....

/169