11 مئی 2013 - 19:30
وائٹ ہاوس کے سامنے مظاہرے

سيکڑوں کي تعداد ميں سياسي کارکنوں نے وائٹ ہاوس کے سامنے مظاہرے کرکے گوانتامو جيل بند کرنے کا مطالبہ کيا ہے-

ابنا: وائٹ ہاوس کے سامنے مظاہرہ کرنے والوں نے گوانتاموں جيل ميں  بند قيديوں جيسي وردياں  پہن رکھي تھيں-مظاہرے کے وقت واشنگٹن کي پينسلوانيہ روڈ کو گاڑيوں کي آمد رفت کے لئے بند کرديا گيا تھا-کہا جارہا ہے کہ اس وقت بدنام زمانہ امريکي عقوبت خانے ميں ايک سو چھياسٹھ افراد قيد ہيں جن ميں دو تہائي قيديوں نے بھوک ہڑتال کر رکھي ہے-گوانتامو کے قيديوں کي حمايت ميں بھوک ہڑتال کرنے والے انساني حقوق کے سرکردہ کارکن دايان ولسن نے کہا ہے کہ جب آپ بھوک ہڑتال کرتے ہيں تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قيديوں پر کا بيت رہي ہے-دايان وليسن  گزشتہ پندرہ روز سے بھوک ہڑتال پر ہيں اور انہوں نے خود کو وائٹ ہاوس کي ديوار سے باندھ رکھا ہے- انہوں نے امريکي صدر سے مطالبہ کيا کہ وہ گوانتامو جيل بند کرنے کے وعدے پر فوري عملدرآمد کريں-مظاہرين ميں شريک ايک شخص کا کہنا تھا کہ ہميں امريکي رہنماؤں  اور خاص طور پر صدر باراک اوباما سے توقع ہے کہ وہ گوانتانامو جيل بند کرديں گے کيونکہ وہ نہ صرف اس جيل کو بند کرسکتے ہيں بلکہ قيديوں کو آزاد کرنے کا حکم  بھي دے سکتے ہيں-واضح رہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قيديوں کے وکلا کا کہنا ہے کہ جيل کي انتظاميہ بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے قيديوں پر تشدد کر رہي ہے-...../169