28 اپریل 2013 - 19:30
عراق کا المیہ

عراق کے وزير اعظم نے سرکاری ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیچھے بعض ایسے عناصر ہیں جو ملک میں فرقہ وارانہ اور قبائلی تصادم شروع کرانا چاہتے ہیں ۔

ابنا: نوری مالکی نے کرکوک کے علاقے حویجہ میں ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ اقدام ملک میں فتنہ فساد پیدا کرنے کے لئے انجام دیا گيا ہے ۔ عراقی وزير اعظم نے القاعدہ اور بعث پارٹی کی باقیات کو عراق کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا عراق میں برپا کئے جانے والے فتنے کے پیچھے بعض غیر ملکی عناصر ہیں ان کا کہنا تھا ہمارے اردگرد کے بعض ممالک میں جو فتنے و فساد برپا ہیں عراق اس سے بھی متاثر ہورہا ہے ۔ عراقی صدر کا اشارہ بعض عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کی طرف تھا جو گزشتہ کئی سالوں سے عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے رابطے میں ہیں اور انکی خفیہ اور علنی مدد کررہا ہے عراق میں سرگرم القاعدہ اور بعث پارٹی سے سعودی عرب کے براہ راست تعلقات ہیں اور وہ ان گروہوں کے ذریعے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے ۔
 آئیے سنتے ہیں پاکستان کے معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر عامر عباس عراق اور خطے کی سیاست پر کیا تبصرہ کر رہے ہیں
 ترکی اور سعودی عرب کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لاتعداد ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔اور واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ عراق میں جاری ناامنی میں ان ممالک کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت ہے ۔ سعودی عرب اور ترکی بعض مغربی طاقتوں کے اشارے پر عراق میں مالکی حکومت کے مخالفین القاعدہ اور بعث پارٹی جیسے گروہوں کی کھل کر حمایت کررہے ہیں تاہم عراق صرف اندرونی فتنہ سے دوچار نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف بیرون ملک سے باقاعدہ سازشیں ہورہی ہیں ان سازشوں میں عراق کو فرقہ وارانہ اور قومی و لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا اور اس ملک کے حصّے بخرے کرنا ہیں عراق کی سالمیت اور اتحاد کے حوالے سے جہاں بیرونی طاقتیں سرگرم عمل میں وہاں اندرون ملک گروہوں کی سرگرمیوں کو ہرگز نظر اندا نہیں کیا جا سکتا ۔ ایادعلاوی کا سیاسی دھڑا العراقیہ مختلف علاقوں بالخصوص سنی آبادی کے علاقوں میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرکے مالکی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ عراق کے وزير ا عظم نوری مالکی نے ملک کی سالمیت اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والی اس سازش کا ادراک کرتے ہوئے عراقی عوام کے تمام حلقوں من جملہ علماء ، دانشور اور موثر گروہوں سے ا پیل کی ہے کہ وہ ملک کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے افکار و نظریات سے عوام کو آگاہ ، متنبہ اور خبردار کریں۔
عراق کے وزير اعظم اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ عراق کے موجودہ بحران کا حل باہمی گفت و شنید میں مضمر ہے وہ عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام سیاسی گروہوں اور پارلیمنٹ کو ملک کے مشکلات سے نکالنے کے لئے مشترکہ جد وجہد کرنا چاہیے ۔

.......

/169