ابنا: شام کے اندر سے موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف مختلف علاقوں ميں فوج کے حاليہ کامياب آپريشن کے بعد ملک ميں امن و امان کي صورتحال بہتر ہورہي ہے -اس سلسلے ميں شام کے صدر بشار اسد نے ايک لبناني وفد سے ملاقات ميں ايک بار پھر اس بات پر زور ديا ہے کہ بيروني طاقتوں سے وابستہ دہشتگرد گروہوں سے سختي سے نمٹا جائے گا - انہوں کہا کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپريشن ميں فوج کو شام کے عوام کي مکمل حمايت حاصل ہے اور فوج کے کامياب آپريشن کے نتيجے ميں حالات بہت تيزي سے بہتر ہورہے ہيں -شام کے صدر نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئي رو رعايت نہيں کي جائے گي ، کہا کہ دہشتگرد گروہوں سے سختي سے نمٹا جائے گا اور حکومت نے ملک سے دہشتگردي کو جڑ سے ختم کرنے کا عہد کررکھا ہے -يہ ايسي حالت ميں ہے کہ فوج نے مختلف علاقوں ميں دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپريشن جاري رکھتے ہوئے انہيں زبردست نقصان پہنچايا ہے - المنار ٹي وي کے مطابق شام کے فوجي دستوں نے صوبہ حمص کے شہر القصير کے مضافات ميں ، قادش، البرہانيہ، الرضوانيہ، اور النبي ماندو نامي علاقوں کو دہشتگردوں سے پا ک کرتے ہوئے ان کا کنٹرول سنبھال ليا ہے اور القصير کي جانب پيش قدمي کي ہے -شام کي فوج نے اس آپريشن ميں القصير کے مضافاتي علاقوں ميں دہشتگردوں کي بنائي ہوئي بہت سے سرنگوں کا پتہ لگايا ہے - رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ فوج کے آپريشن ميں بہت سے دہشتگرد مارے گئے ہيں -شام کي فوج نے اسي طرح الجنوديہ، الحمامہ، اليعقوبيہ، کاترون، الحمديہ، معارت النومان، تال سالمو، حميمات ، الديار، اور البوئيتي ميں سيکڑوں دہشتگردوں کو ہلاک کيا ہے -شام کي فوج نے اسي طرح دارالحکومت دمشق کے مضافات، درعا، حماہ، اور حلب ميں بھي بہت سے دہشتگردوں کو ہلاک کيا ہے-
.....
/169