ابنا: انھوں نے آج ایسنا سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے بحران کے بارے میں تہران کے مواقف سے متعلق تاکید کے ساتھہ کہا کہ ہر وہ حکومت جسے اپنے ملک کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے وہ باقی رہتی ہے ۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران، شامی عوام کے منطقی مطالبات کا حامی ہے اور تمام ملکوں کو چاہیئے کہ قوموں کے حقوق کی حمایت کے دائرے میں آگے بڑھیں مگر کسی کو بھی اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شامی عوام کے مسائل میں مداخلت کرے اسلئے کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ اس ملک کے عوام ہی کرسکتے ہیں اور کوئی بھی ملک ان پر اپنے نظریات مسّلط نہیں کرسکتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت حارجہ کے ترجمان جناب رامین مہمان پرست نے شام میں مطالبات پورے کروانے کیلئے دہشتگردانہ کاروائیوں اور ہتھیاروں کے استعمال کو خطرناک طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ طے ہوجائے کہ ہر ملک میں حکومت مخالف مسّلح گروہوں کو ہتھیاروں سے مسّلح کیا جائے تو علاقے کے تمام ملکوں کی صورت حال شام جیسی ہوجائیگی۔ انھوں نے تاکید کے ساتھہ کہا کہ کسی بھی ملک میں حکومت کا جواز اس ملک کے عوام ہی اپنی حمایت کے ذریعے پیدا کرتے ہیں تاہم بعض بیرونی ممالک بعض گروہوں کو ہتھیاروں سے مسّلح کرکے کسی ملک پر زبردستی تسّلط جمائیں تو یہ بات ایران کیلئے قطعا ناقابل قبول ہے۔
.....
/169