ابنا: اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر محمد سرافراز نے پہلے ریڈیو پروگرام فیسٹول کی تقریب سے خطاب میں یورپی یونین کی جانب سے اپنے اوپر اور پریس ٹی وی کے شعبۂ خبر کے ڈائریکٹر پر پابندی لگائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ، یورپی یونین کے حکام کی بے منطقی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایران میں برطانوی میڈیا کے لیے کام کرنے والے ایک شخص کی چند سیکنڈ کی رپورٹ نشر کیے جانے کے بہانے ایک ٹی وی چینل کی نشریات پر پابندی لگا رہے ہیں۔ڈاکٹر محمد سرافراز نے کہا کہ وہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ ایرانیوں کی زندگي یورپ کے سفر اور یورپ میں بینک اکاؤنٹس سے وابستہ ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کو بےمنطق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے حکام اس وقت ان پابندیوں کی منظوری کے بارے میں پریس ٹی وی کے رپورٹر کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹی وی چینلوں پر پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی چینل اپنا پیغام پہنچانے میں بہت مؤثر ہیں اور اسی وجہ سے ان پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔......./242
12 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 399535
اسلامی جمہوریہ ایران کے ریڈیو اور ٹی وی کے ادارے کی ورلڈ سروس کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز نے مغرب کی جانب سے ایرانی چینلوں پر پابندی لگائے جانے کے بعد کہا ہے کہ دنیا میں پہلی بار میڈیا پر پابندی لگائی گئی ہے اور یہ امر یورپی یونین کی بےمنطقی اور ایران کی ورلڈ سروس کے اثر کی عکاسی کرتا ہے۔