10 مارچ 2013 - 20:30

ايراني سائنسدانوں نے سولرپاور پلانٹ کي تعمير سے متعلق نئي اور اعلي ٹکنالوجي حاصل کرلي ہے جس ميں کافي گنجائش ہوگي -

ابنا: ايران ميں جديد توانائي کي ٹکنالوجي کے ترقياتي شعبے کے  سکريٹري يوسف آرمودلي نے بتايا کہ شيراز يونيورسٹي  کے محققين اور سائنسدانوں نے سولرپاور پلانٹ کي تعمير کي نئي ٹکنالوجي حاصل کي ہے   -
يوسف آرمودلي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس وقت ايران دنيا کا پانچواں ملک ہے جس نے اسٹيم سولر پاورپلانٹ کي تعمير اور ڈيزائننگ کي ٹکنالوجي حاصل کرلي ہے کہا کہ يہ پلانٹ بجلي پيدا کرنے کي غرض سے اسٹيم اور برف تيار کرے گا –
ايک اور خبر يہ ہے کہ ايک ايراني محقق نے سمندر کي لہروں سے بجلي تيار کرنے ميں کاميابي حاصل کرلي ہے –
ايراني محقق مصطفي حدادي نے اتوار کو اپنے بيان ميں کہا کہ انہوں  نے توانائي کي پيداوار اور جذب کا جو پروجيکٹ پيش کيا ہے وہ سمندري لہروں سے اسپائيڈر سسٹم کے ذريعے تيار کيا گيا ہے - انہوں نے بتايا کہ يہ سسٹم مکڑي کي شکل ميں آٹھ ستونوں پر استوار ہے  جس ميں ہرستون ايک ليزر کو تشکيل ديتا ہے اور ہر ستون  کے ساتھ    ايک فلوٹنگ سسٹم ہے  اور ہر فلوٹنگ سسٹم  سطح سمندر کے ايک حصے پر محيط ہوتا ہے جو اس کي لہروں سے توانائي پيدا کرتا ہے - سمندري لہروں سے بجلي پيدا کرنے کا پروجيکٹ سب سے پہلے انيس سو اڑسٹھ ميں تيار ہوا تھا اور اب تک اس ميدان ميں بارہ سو پيٹنٹ درج ہوچکے ہيں - ان ميں سے پينتاليس ايسے ہيں جو صنعتي شعبوں ميں کام آرہے ہيں –
يہ پروجيکٹ امريکا برطانيہ جرمني جاپان ڈنمارک اور ہالينڈ ميں ہيں جن سے استفادہ کيا جارہا ہے-
ايراني سائنسداں نے جو پروجيکٹ تيار کيا ہے وہ انہي پرجيکٹوں سے ملتا جلتا ہے جبکہ اس کا اميتاز  يہ ہے کہ جو مشکلات ان پروجيکٹوں ميں  پائي جاتي ہيں وہ اس ميں نہيں ہے -

.....

/169