3 مارچ 2013 - 20:30

افغانستان کے صدر اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے مشترکہ پریس کانفرنس میں دہشتگردی کے خلاف مہم کے شعبے میں پاکستان کی ٹھوس شراکت کی ضرورت پر تاکید کی ۔

ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے آج کابل میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل انڈرس فوگ راسموسن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئےکہا کہ افغانستان میں خودکش حملوں کو جائز قرار دینے پرمبنی پاکستان علماء کونسل کے سربراہ کا بیان افسوسناک ہے ۔ افغانستان کے صدر نے پاکستان کے شہروں کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشتگردانہ حملوں اور ان میں سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی طرف اشارہ اور دہشتگردی کے خلاف مہم کے لئے عملی اقدامات انجام دیئے جانے کو ایک ضروری امر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھی دہشتگردی کا سامنا ہے اور یہ بات پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس پریس کانفرنس میں افغان فورسز کی توانائیوں ، شجاعت اور ذمہ داریوں کی قدردانی کی اور کہا کہ آیندہ چند مہینوں میں افغان فورسز اپنے ملک کی مکمل سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی ۔ راسموسن نے مزید کہا کہ عالمی برادری افغانستان کے حوالے سے کیئے جانے والے اپنے وعدوں پر پابند ہے اور 2014 کے بعد اس ملک کی مدد حمایت جاری رکھی جائے گی ۔