28 فروری 2013 - 20:30

پاکستان کے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ امریکہ کو کراچی کا ایئرپورٹ فوجی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔

ابنا: اس سے قبل پاکستان کے بعض ذرائع ابلاغ نے امریکہ کے سرکاری فوجی ذرائع کے حوالے سے اعلان کیا تھا کہ امریکہ، پاکستان کے کراچی ایئرپورٹ پر فوجی کمپاؤنڈ قائم کرنے والا ہے ۔ تردید کے حوالے سے پاکستان کے سیکرٹری دفاع  کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں ،امریکہ کے ساتھہ کسی بھی طرح کے ایسے تعلقات کے خلاف ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر ان ہی مخالفتوں اور دباؤ کا نتیجہ تھا کہ سنہ 2011ء میں حکومت پاکستان نے امریکہ کو صوبے بلوچستان میں شمسی ایئربیس خالی کرنے پر مجبور بھی کیا ۔ امریکی فوج اس ایئربیس کو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور اسی طرح افغانستان کے بعض علاقوں پر ڈرون حملوں کیلئے استعمال کرتی تھی ۔ پاکستان میں امریکہ کی غیر سیاسی موجودگی مختلف پہلوؤں کی حامل ہے جس کی بناء پر اس ملک کی پیپلز پارٹی حکومت کو ہمیشہ سیاسی و تشہیراتی حلقوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے ۔امریکہ، پاکستان میں فوجی مداخلت کے علاوہ خفیہ معلومات حاصل کرنے کا اپنا پورا جال بچھا چکا ہے اور اس نے اپنی ان سرگرمیوں پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی حّساسیت دبائے رکھنے کیلئے اسلام آباد میں سفارتی جغرافیائی حدود بڑھانے کا منصوبہ بھی پیش کیا جس پر پاکستان میں شدید مخالفت کا اظہار کیا گيا جبکہ امریکہ اپنے اس منصوبے کے تحت اسلام آباد میں اپنا سفارت خانہ دنیا میں اپنے سب سے بڑے سفارت خانے میں تبدیل کرنا چاہتا تھا کہ جس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں کے سرگرم عمل ہونے کی گنجائش ہوتی اور پھر امریکہ اپنی سفارتکاری کے دائرے میں جاسوسی کی بھرپور سرگرمیوں کا عمل جاری رکھتا ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جنوری سنہ 2012ء میں امریکی جاسوس کارکن ریمنڈ ڈیویس نے شہر لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کا قتل کردیا جس سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے پر کافی اثرات بھی مرتّب ہوئے ۔ پاکستان میں مختلف سطح پر امریکہ مخالف بڑھتے ہوئے احساسات کے پیش نظر اس ملک کی حکومت اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرے کہ جس سے پاکستان میں یہ احساسات بھڑک اٹھیں اور امریکہ کی جانب سے کراچی کا ایرپورٹ فوجی استعمال کیلئے اجازت نہ دینے کے حکومت پاکستان کے اقدام کا مذکورہ پالیسی کی روشنی میں بخوبی جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔

.......

/169