حضرت امام حسن عليہ السلام كا امير شام كے ساتھ صلح كرنا ايك ايسا مسئلہ ھے جو اس وقت سے لے كر اب تك زير بحث چلا آرھا ھے۔ امام عليہ السلام كے دور امامت ميں بعض اشخاص نے " صلح امام حسن (ع) پر اعتراض كيا ديگر ائمہ معصومين (ع) كے ادوار ميں بھي كچھ لوگ اسي طرح كے اعتراضات كرتے رھے اور يہ مسئلہ آج تك زير بحث چلا آرھا ھے كہ حضرت امام حسن عليہ السلام نے معاويہ كے ساتھ صلح كيوں كى؟ اس قسم كے افراد سے يہ سوال اٹھتا ھے كہ آخر كيا وجہ ھے كہ امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام نے حاكم وقت كے ساتھ مصالحت كرلي تھي اور امام حسين عليہ السلام نے يذيد كے ھاتھ پر بيعت قبول نہ كي۔ اور ابن زياد كو صاف جواب دے ديا كہ مجھ جيسا معصوم يزيد جيسے فاسق وفاجر كي بعيت نھيں كرسكتا۔ درحقيقت بات يہ ھے كہ امام حسين عليہ السلام چونكہ امام وقت تھے اور ان كےزمانئہ امامت ميں ان سے بھتر شخص اور كوئي نھيں تھا۔ يزيد تو يزيد وہ دنيا كے كسي بڑے شخص كي بھي بيعت نھيں كر سكتے تھے كيو نكہ وہ امام وقت تھے۔اعتراض كرنے والے حضرات اگر حقيقت حال كا مطالعہ كر ليتے تو وہ صلح امام حسن عليہ السلام پر كبھي بھي اعتراض نہ كرتے كيونكہ امام حسن (ع) كي صلح اور امام حسين (ع) كے قيام ميں بہت بڑا فرق ھے۔ حالات اور ماحول كا بہت فرق تھا بعض لوگ كھتے ھيں كہ امام حسن عليہ السلام چونكہ ايك صلح پسندتھے اور امام حسين عليہ السلام جنگجو تھے اس لئے ايك جگہ پر صلح ھوئي اور دوسري جگہ پر جنگ اور قتل و كشتار جيسي صورت حال پيدا ھوگئي حالانكہ ايسا نھيں تھا۔ ان تمام اعتراضات كا ھم ايك ايك كركے جواب ديں گے اور اس ثبوت كو پايۂ تكميل تك پہنچائيں گے يہ دونوں شھزادے حق پر تھے انھوں نے جو جو بھي اقدام كيا وہ بھي حق پر تھا۔اگر امام حسن عليہ السلام"امام حسين عليہ السلام كي جگہ پر ھوتے يا امام حسين (ع) امام حسن (ع) كي جگہ پر ھوتے تو ايك جيسي صورت حال پيدا ھوتي۔صلح حسن (ع) كے وقت حالات اور طرح كے تھے اور كربلا ميں زمانہ اور حالات كا رخ كچھ اور تھا۔ امام حسن عليہ السلام كے دور امامت ميں اسلام كي بقاء اس خاموشي ميں مضمر تھي اور كربلا ميں اسلام جھاد كے بغير زندہ نھيں رہ سكتا تھا۔بقول مولانا ظفر علي خان اسلام زندہ ھوتا ھے ھر كربلا كے بعدميں بھي چاھتا ھوں كہ اس مسئلہ كے اردگرد بحث كروں عام طور پر جو لوگ صلح حسني (ع) اور قيام حسين (ع) كے بارے ميں بحث تمحيص كرتے ھيں ان كي گفتگو كا محور بھي يھي ھوتا ھے ليكن كچھ تجزيہ نگار اپني پٹري سے اتر جاتے ھيں۔ وہ كہنا كچھ چاھتے ھيں كہہ كچھ اور ديتے ھيں۔ دراصل اسلام ميں جھاد كا مسئلہ ايك بنيادي حيثيت ركھتا ھے اگر ان دونوں مسئلوں كو ديكھا جائے تو ان دونوں ھي ميں فلسفہ جھاد عملي طور پر نماياں نظر آئے گا۔ اسي جھاد كو مد نظر ركھتے ھوئے امام حسن (ع) نے خاموشي اختيار كر لي تھي اور اسي جھاد كي خاطر امام حسين (ع) نے ميدان جنگ ميں آكر صرف اپنا نھيں بلكہ اسلام و قرآن كا دفاع كيا۔ ہماري بحث كا محور بھي يھي بات رھے گي كہ امام حسن عليہ السلام نے حاكم وقت كے ساتھ صلح كي توكيوں كي اور امام حسين (ع) ميدان جھاد ميں يزيدي فوجوں سے نبرد آزما ھوئے تو كيوں ھوئے؟ پيغمبر اكرم (ص) اور صلحجب ھم غور وخوض كرتے ہيں تو ھميں واضح طور پر معلوم ھوتا ھے كہ مسئلہ صلح صرف امام حسن (ع) كے ساتھ خاص نھيں ہے، بلكہ يہ مسئلہ پيغمبر اسلام كے دور رسالت سے بھي مطابقت ركھتا ھے۔ جناب رسالت مآب (ص) بعثت كے ابتدائي سالوں سے لے كر آخری مدت تك مكہ ميں رھے ليكن جب آپ دوسرے سال ميں مدينہ تشريف لائے تو آپ كا رويہ مشركين كے ساتھ انتھائي نرم اور ملائم تھا۔ حالانكہ مشركين نے حضور پاك كو اور ديگر مسلمانوں كو بہت زيادہ اذيتيں دي تھيں اور ان كا جينا حرام كرديا تھا۔ آخر مسلمانوں نے تنگ آكر حضور سے جنگ كي اجازت چاھي اور عرض كي سركار آپ ھميں صرف ايك مرتبہ جنگ كي اجازت مرحمت فرما ديں تو ھم ان كافروں، مشركوں كو ايسا ياد گار سبق سكھائيں كہ يہ آئندہ ھماري طرف آنكھ اٹھا كر بھي نھيں ديكھيں گے آپ نے مسلمانوں كو جنگ كي اجازت نہ دي اور ان كو امن وآشتي اور صبر وتحمل كے ساتھ زندگي گزارنے كي تلقين كي۔آپ نے فرمايا لڑنے جھگڑنے سے صورت حال مزيد خراب ھوگي اس لئے بھتر يہ ھے كہ خاموش رھا جائے۔ اگر كسي كو اس حالت ميں نھيں رھنا ھے تو وہ سرزمين حجاز سے حبشہ كي طرف ھجرت كرسكتا ھے۔ ليكن پيغمبر اكرم (ص) نے جب مكہ سے مدينہ كي طرف ھجرت فرمائي تو اس وقت يہ آيت نازل ھوئي ۔"اذن للذين يقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ عليٰ نصرھم لقدير" 12"يعني جن (مسلمانوں) سے (كفار) لڑا كرتے تھے چونكہ وہ (بہت) ستائے گئے اس وجہ سے انھيں بھي (جھادكي) اجازت دے دي گئي اور خدا تو ان لوگوں كي مدد پر يقيناً قادر (و توانا) ھے" اب سوال يہ پيدا ھوتا ھے كہ آيا اسلام جنگ كا دين ھے يا صلح كا؟ اگر صلح كا دين ھے تو ھميشہ اسي پاليسي پر عمل كرنا چاھيے۔ دين كا كام تو لوگوں كو نيك كام كي دعوت دينا ھے ۔ گويا دين ايك پيغام ھے پھنچ گيا تو ٹھيك نہ پھنچا تو كوئي بات نھيں ۔اگر اسلام جنگ كا دين ھوتا تو پھر رسول خدا نے مكہ ميں تيرہ (۱۳) سال تك جنگ كي اجازت كيوں نھيں دي يھاں تك كہ دفاع كي اجازت بھي نہ دي۔ دراصل بات يہ ھے كہ اسلام وقت اقر حالات كو ديكھتا ھے اگر صلح كا مقام ھو تو حكم ديتا ھے كہ جنگ نہ كرو اور جنگ اور دفاع كي نوبت آجائے تو پھر سكوت كو جائز قرار نھيں ديتا ۔ ھم رسول خدا كي سيرت طيبہ كا مطالعہ كرتے ھوئے ديكھتے ھيں كہ حضور اكرم (ص) مكہ ميں كچھ مقامات پر كفار و مشركين كے ساتھ جنگيں كررھے ھيں اور بعض مقامات پر صلح كي قراردادوں پر دستخط كررھے ھيں جيسا كہ حديبيہ كے مقام پر آپ مشركين مكہ سے صلح كررھے ھيں۔ حالانكہ يہ مشرك آپ كے سخت ترين دشمن تھے ۔ يھاں پر صحابہ كرام نے بھي صلح پر دستخط كيے۔ پھر ھم ديكھتے ھيں كہ آپ مدينہ ميں يھوديوں كےساتھ يہ عھد و پيمان كر رھے ھيں كہ ان كے ذاتي امور ميں ان كو آزاد چھوڑا جائے گا۔ يہ فرمايئے اس كے متعلق آپ كيا كھيں گے؟ حضرت علي (ع) اور صلحاسي طرح ھم ديكھتے ھيں كہ حضرت اميرالمومنين (ع) ايك جگہ پر لڑتے ھيں اور دوسري جگہ پر نھيں لڑتے۔ پيغمبر اكرم (ص) كي رحلت كے بعد خلافت كا مسئلہ پيدا ھوجاتا ہے اور خلاف دوسرے لے جاتے ھيں علي عليہ السلام اس مقام پر جنگ نھيں كرتے، تلوار اپنے ھاتھ ميں نھيں ليتے اور فرماتے ھيں كہ مجھے حكم ھوا ھے كہ ميں نہ لڑوں اور نہ ھي مجھے لڑائي ميں حصہ لينا چاھيے۔ دوسروں كي طرف سے جوں جوں سختي پريشاني بڑھتي جاتي ھے آپ اس قدر نرم ھوتے جارھے ھيں۔ ايك وقت ايسا بھي آجاتا ھے كہ حضرت زھرا (ع) كو پوچھنا پڑتا ھے كہ"ما لك ياابن ابي طالب اشتملت شملۃ الجنين و قعدت حجرۃ الطنين" 13 اے ابو طالب كے بيٹے آپ كي حالت جنين كي طرح كيوں ھوگئي ھے كہ جو شكم مادر ميں ھاتھ اور پاؤں كو سميٹ ليتا ھے آپ اس شخص كي مانند ايك كمرہ ميں گوشہ نشين ھو كر رہ گئے ھيں كہ جو لوگوں كے شرم كي وجہ سے گھر سے باھر نھيں نكلتا؟ آپ وھي تو ھيں كہ آپ كے سامنے ميدان جنگ ميں بڑے بڑے پھلوانوں كے پتے پاني ھوجايا كرتے اور آپ كو ديكھ كر بڑے بڑے جري بھادر جرنيل بھاگ جاتے تھے۔ اب آپ كي حالت يہ ھے كہ يہ ٹڈي دل لوگ آپ پر غالب آگئے ھيں آخر كيوں"؟حضرت فرماتے ھيں اے ميرے رسول (ص) كي پياري بيٹى!اس وقت ميري ذمہ داري اس طرح كي تھي اور اب ميرا فريضہ يہ ھے كہ ميں چپ رھوں، خاموش رھوں، صبر وتحمل سے كام لوں۔ يھاں تك كہ پچيس سال اسي حالت ميں گزرجاتے ھيں۔ ان پچيس (۲۵) سالوں كي مدت ميں علي (ع) خاموش رھے۔ پھر ايك وقت ايسا بھي آتا ھے كہ عثمان غني قتل كرديئے جاتے ھيں۔ حالات بدل جاتے ھيں، لوگوں كا بہت بڑا ھجوم آپ كے در عصمت پر آتا ھے ان ميں كچھ لوگ ايسے بھي ھيں جو علي (ع) كو قتل عثمان ميں ملوث كرنا چاھتے ھيں كچھ ايسے افراد بھي ھيں جو كھتے ھيں مولا آپ مسند خلافت پر تشريف لے آيئے كچھ ايسے بھي ھيں جو آپ سے تقاضا كرتے ھيں كہ يا علي (ع) قاتلين عثمان كو پكڑ كر قرار واقعي سزادي جائے آخر وھي وقت آگيا جس كي نشاندھي آپ نے نھج البلاغہ ميں كي ھے۔ آپ نے عثمان سے كھا تھا كہ مجھے ڈر ھے كہ كوئي شخص آپ كو قتل كركے مسلمانوں كے درميان عجيب صورت حال پيدا ھوگئي ايك طرف عثمان كے مخالفوں كا گروہ تھا دوسري طرف عثمان تھے"ليكن آپ نے ھميشہ عدل وانصاف كے ساتھ فيصلہ كيا۔قارئين كرام ! آيتہ اللہ شھيد مطھري (رح) اور علامہ مفتي جعفر حسين مرحوم كي عبارتيں ايك دوسرے سے ملتي جلتي ھيں اس لئے ھم مفتي صاحب قبلہ كي عبارت پيش كرتے ھيں وہ نھج البلاغہ كے صفحہ نمبر ۱۱۴پر رقمطراز ھيں كہ جب حضرت عمر ابو لولوكے ھاتھوں سے زخمي ھوئے اور ديكھا كہ اس كاري زخم سے جانبر ھونا مشكل ھے تو آپ نے انتخاب خليفہ كيلئےايك مجلس شوريٰ تشكيل دي جس ميں علي ابن ابي طالب، عثمان ابن عفان ، عبدالرحمٰن ابن عوف، زبير ابن عوام، سعد ابن ابي وقاص اور طلحہ ابن عبيداللہ كو نامزد كيا اور ان پر يہ پابندي عائد كردي كہ وہ انكے مرنےكے بعد تين دن كے اندر اندر اپنے ميں سے ايك كو خلافت كے لئے منتخب كر ليں اور يہ تينوں دن امامت كے فرائض انجام ديں۔ ان ھدايت كے بعد اركان شوريٰ ميں سے كچھ لوگوں نے ان سے كھا كہ آپ ھمارے متعلق جو خيالات ركھتے ھوں ان كا اظھار فرماتے جائيں تاكہ انكي روشني ميں قدم اٹھايا جائے۔ اس پر آپ نے فرداً فرداً ھر ايك كے متعلق اپني زريں رائے كا اظھار فرمايا۔ چنانچہ سعد كے متعلق كھا كہ وہ درشت خو اور تند مزاج ھيں اور عبدالرحمن اس امت كے فرعون ھيں اور زبير خوش ھوں تو مومن اور غصہ ميں ھوں تو كافر اور طلحہ غرور و نخوت كا پتلا ھے اگر انھيں خليفہ بنايا گيا تو خلافت كي انگوٹھي اپني بيوي كے ھاتھ ميں پھنا ديں گے اور عثمان كو اپنے قوم وقبيلہ كے علاوہ كوئي دوسرا نظر نھيں آتا رھے علي عليہ السلام تو وہ خلافت پر ريجھے ھوئے ھيں۔اگر چہ ميں جانتا ھوں كہ ايك وھي ايسے ھيں جو خلافت كو صحيح راہ پر چلائيں گے مگر اس كے اعتراف كے باوجود آپ نے مجلس شوريٰ كي تشكيل ضروري سمجھي اور اس كے انتخاب اركان اور طريق كار ميں وہ تمام صورتيں پيدا كرديں كہ جس سے خلافت كا رخ ادھر ھي بڑھے جدھر آپ موڑنا چاھتے تھے۔ چنانچہ تھوڑي بہت سمجھ بوجھ سے كام لينے والا بآساني اس نتيجے پر پھنچ سكتا ھے كہ اس ميں عثمان كي كاميابي كے تمام اسباب فراھم تھے اس كے اركان كو ديكھئے تو ان ميں ايك عثمان كے بھنوئي عبدالرحمٰن بن عوف ھيں اور دوسرے سعد بن وقاص ھيں جو امير المومنين (ع) سے كينہ وعناد ركھنے كے باوجود عبدالرحمٰن كے عزيز و ھم قبيلہ بھي ھيں ان دونوں ميں سے كسي ايك كو بھي عثمان كے خلاف تصور نھيں كيا جاسكتا، تيسرے طلحہ بن عبيد اللہ تھے طبري وغيرہ كي روايت سے معلوم ھوتا ھے كہ طلحہ اس موقعہ پر مدينہ ميں موجود نہ تھے ليكن ان كي عدم موجودگي عثمان كي كاميابي ميں سدراہ نہ تھي بلكہ وہ موجود بھي ھوتے، جيسا كہ شوريٰ كے موقعہ پر پھنچ گئے تھے اور انھيں امير المومنين (ع) كا ھمنوا بھي سمجھ ليا جائے تب بھي عثمان كي كاميابي ميں كوئي شبہ نہ تھا كيونكہ حضرت عمر كے ذھن رسانے طريقہ كار يہ تجويز كيا تھا "كہ اگر دو ايك پر اور دو ايك پر رضامند ھوں ت
6 فروری 2013 - 20:30
News ID: 388761
۲۶ ربیع الاول امام حسن علیہ السلام کی امیر شام کے ساتھ صلح کی مناسبت سے