اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی حکومت مخالف اشتراکی جماعت "سوشلسٹ یونین" کے سربراہ "رجاء الناصر" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: شامی اور ترک اقوام کےدرمیان تعلقات پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر استوار ہونے چاہئے اور قوموں کے درمیان یہ تعلقات مستحکم ہیں لیکن دو حکومتوں کے درمیان مثبت روابط کشیدگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا: سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ترکی شام کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور شامی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دے نہ یہ کہ ترک حکومت یا فلاں ترک اہلکار شامی عوام کے مقدرات کا فیصلہ سنائے۔الناصر نے کہا: ہم دو پڑوسیوں کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور اپنے اندرونی مسائل میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ شام اور ترکی کے تعلقات کو دوطرفہ احترام کی بنیاد پر استوار ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا: ہم کسی بھی نام و عنوان کے تحت بیرونی فوجی مداخلت برداشت نہيں کریں گے اور شدت سے ایسی کسی مداخلت کی مذت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ترک قوم کے ساتھ مثبت تعلقات کی حمایت کرتے ہیں۔ الناصر نے کہا: شام کے اندر حکومت کی پرامن مخالفت قابل قبول ہے اور ہم ملک کے اندر کی اپوزیشن جماعتوں کی حیثیت سے اپنی قانونی حیثیت شامی عوام سے لیتے ہیں نہ کہ ترکی، قطر، آل سعود اور نیٹو سے اور شام میں ایک خاص فریق کی حمایت در حقیقت ایک فریق کے مفاد میں انحراف کے زمرے میں آتی ہے جس کو ملت شام کی حمایت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ انھوں نے شام کی خانہ جنگی کے سلسلے میں ترک حکام کے موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شام میں جنگ اور کشیدگی یقیناً ترکی سمیت تمام پڑوسی ممالک پر منفی اثرات مرتب کرے گی اور ترکی کو چاہئے کہ وہ شام میں خانہ جنگی کی آگ نہ بھڑکنے دے کیونکہ شام میں خانہ جنگی پورے علاقے کو آگ کے شعلوں میں دھکیل دے گی اور شام بھی تباہ ہوجائے گا۔الناصر نے کہا: شام کے ساتھ دوستی کے تمام دعویداروں کو چاہئے کہ وہ ہمارے ملک کو جنگ اور تباہی سے دور رکھیں اور شامی قوم کے سیاسی مطالبات کو پرامن ماحول میں عملی جامہ پہننے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
1 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 377715
شام کی اپوزیشن سوشلسٹ جماعت نے ترکی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شام کے اندرونی معاملات میں ترکی کی مداخلت کی مذمت کی۔