ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب خلیج فارس کے علاقے کے ملکوں میں جرمنی سے ہتھیار خریدنے میں سبقت لے گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس سال جرمنی سے ایک ارب چونتیس کروڑ یورو کے ہتھیار خریدے ہیں ، اس رپورٹ میں آیا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے کے ممالک کو فوجی ہتھیار بیچنے کے لئے امریکہ ، یورپی ممالک اور اسرائیل کی ہتھیاروں کی کمپنیوں کے درمیان شدید رقابت پائی جاتی ہے اور جولائی 2011 سے لیکر جولائی 2012 تک کے اعداد شمار سے نشاندہی ہوتی ہے کہ خلیج فارس کے علاقائی مملک خاص طور پر سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے۔
بشکریہ از ریڈیو تہران
یادرہے کہ سعودی عرب کے صہیونی ریاست کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ علاقے میں مشترکہ مفادات کے لئے مشترکہ لڑائیاں لڑ رہے ہیں چنانچہ سعودیوں کا کوئی خاص دشمن نہیں ہے چنانچہ ہتھیار خریدنے کا مقصد امریکیوں اور یورپیوں کے مالی بحران اور بڑھتی ہوئی بےروزگاری جیسے مسائل ان کی مدد دینے کے سوا کچھ نہيں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔/110