12 دسمبر 2012 - 20:30

ہم اس بات پر مطمئن تھے کہ موجودہ حکومت نے جرأت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ایران کی دوستی اور تعلقات کی قدر کرتے ہوئے ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کرلیا، لیکن آخری وقت میں یہ امید بھی دم توڑ گئی اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا معاہدہ مزید موخر ہوگیا۔ اس کا سبب یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ابھی جاری رہے گا۔

خوشی کی بات تھی کہ موجودہ حکومت نے ایران کی دوستی اور تعلقات کی قدر کرتے ہوئے گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا لیکن آخری وقت میں یہ امید بھی دم توڑ گئی اور معاہدہ مزید موخر ہوگیا۔ اس کا سبب یہی نظر آتا ہے کہ حکومت اپنے داخلی اور ایرانی گیس کے ذخائر کے بجائے درآمدی ایل این جی جو پیٹرول کی پیداوار ہے، پر انحصار کرے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ابھی جاری رہے گا۔ ابنا: صدر آصف علی زرداری کے دورۂ ایران کے نظام الاوقات کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ تہران میں پاک، ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کریں گے اور حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کر دے گا۔ واضح رہے کہ ایران زاہدان تفتان تک گیس پائپ لائن تیار کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کو بجلی فروخت کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ یہ دو منصوبے ایسے ہیں جو پاکستان کے موجودہ توانائی کے بحران کو حل کرسکتے ہیں۔ لیکن اچانک صدر پاکستان کے دورۂ ایران کی منسوخی کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہے کہ حکومت نے اپنی رضامندی کے باوجود ایران کے ساتھ گیس کی خریداری کے معاہدے سے گریز کیا ہے۔ اس وقت پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات بہت بہتر ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈی ایٹ کے اجلاس ایران اور ترکی کے صدور کی شرکت نے اس عالمی اجتماع کو وزن عطا کیا تھا۔ مشرق وسطٰی میں سیاسی تبدیلی نے بھی طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ تبدیل شدہ حالات سے موجودہ حکومت اور اس کے معاشی اور ٹیکنیکی منتظمین کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ ہم اس سے قبل مسلسل یہ بات کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں توانائی کا بحران اور بالخصوص بجلی کی قلت مصنوعی ہے۔ توانائی کے بحران کے اسباب میں عالمی سطح پر کیے جانے فیصلے، حکمرانوں کی نااہلی اور بدعنوانی کلیدی عوامل ہیں۔ پاکستان میں موجود توانائی کے داخلی ذرائع و وسائل کے ساتھ خطے میں ایران کا پڑوس ایک اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان میں سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ ناقابل حل بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح متبادل توانائی کے سستے منصوبوں سے عمداً اغماض برتا گیا ہے۔ ’’وار آن ٹیرر‘‘ کے نام سے امریکی جنگ میں شرکت کے جو تباہ کن اثرات پاکستان پر پڑے ہیں، ان میں توانائی کا بحران بھی شامل ہے۔ امریکی ایلچی آں جہانی رچرڈ ہالبروک نے پاکستان کے توانائی کے بحران کو پاکستان اور امریکا کے درمیان تزویرانی مذاکرات کا حصہ بنایا، جس کے بعد سے پاکستان میں توانائی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا گیا۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے کسی منصوبے پر عمل نہیں ہوا، امریکا نے ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن کی کھل کر مخالفت کی؛ بھارت کو ہالبروک نے لالچ دے کر منصوبے سے علیحدہ کیا۔ گیس کا بھی بحران پیدا کر دیا گیا ہے جبکہ اضافی طور پر ایران کی پیشکش موجود ہے۔ حکومت پاکستان کی حدود میں پائپ لائن کی تعمیر کے لیے گیس پر اضافی ٹیکس عائد کرچکی ہے، اس کے علاوہ روس اور ایران بھی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر روس کے صدر کا دورہ پاکستان منسوخ ہوا جو ایک تاریخی واقعہ ہوتا، اسی طرح اچانک ایرانی نائب صدر کا دورہ پاکستان منسوخ ہوا اور اب صدر آصف علی زرداری کا دورہ ایران بھی منسوخ ہوگیا ہے۔ جس کا اہم ایجنڈا پاک ۔ ایران گیس پائپ لائن پر دستخط کرنا تھا۔ اس وقت پاکستان میں گیس کے بحران نے عوام کو مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے اور دورہ ملتوی ہوتے وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں توانائی کے شعبے میں ورکنگ گروپ کا اجلاس جاری بھی جاری تھا؛ اس میٹنگ کے موقع پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان یاد داشت مفاہمت پر دستخط ہوئےجس کے تحت امریکہ پاکستان میں ایل این جی استعمال کرنے کے لیے رقم فراہم کرے گا!۔ اس فیصلے سے پاکستان میں گیس اور سی این جی کے بحران کا سبب واضح ہو جاتا ہے۔موجودہ حکومت نے ابتدا میں بجلی کی قلت کا بحران اس لیے پیدا کیا، تاکہ مہنگے تھرمل بجلی گھروں کے استعمال کو بڑھایا جائے۔ اسی طرح سی این جی کا بحران بھی اسی لیے پیدا کیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نہ اپنے گیس کے ذخائر سے استفادہ کرسکیں اور نہ ہی اپنے پڑوسی مسلمان ملک کے گیس کے ذخائر اور بجلی کے وسائل کو استعمال کرسکیں۔ مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اس سے قبل قطر بھی صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ جاچکے ہیں، جہاں سے ایل این جی کی درآمد کے بارے میں بات کی ہے اور اب پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی کانفرنس میں ایل این جی کے استعمال کی مشاورت کے لیے امریکا نے سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ شاید اسی وعدے پر بھروسہ کرکے یا کسی اور وجہ سے صدر آصف علی زرداری نے دورۂ ایران منسوخ کر دیا۔ ہم اس بات پر مطمئن تھے کہ موجودہ امریکہ نواز حکومت نے کم ازکم اس مسئلے پر جرأت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ایران کی دوستی اور تعلقات کی قدر کرتے ہوئے ایران۔ پاکستان گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کرلیا، لیکن آخری وقت میں یہ امید بھی دم توڑ گئی اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا معاہدہ مزید موخر ہوگیا۔ اس کا سبب یہی نظر آتا ہے کہ حکومت اپنے داخلی اور ایرانی گیس کے ذخائر کے بجائے درآمدی ایل این جی جو پیٹرول کی پیداوار ہے، پر انحصار کرے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ابھی جاری رہے گا۔ ۔۔۔۔۔۔

/110