اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی روزنامے فائننشل ٹائمز کے تجزیہ نگار فلپ اسٹوینز نے شام کے بحران کی وجہ سے ترکی کو درپیش پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی رجب طیب اردوگان کی قیادت میں اس بات پر فخر کررہا تھا پڑوسیوں کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ترکی کی تیز رفتار معاشی ترقی، اور اخوان المسلمین کے ساتھ مثبت تعلقات کی بنا پر تبدیلیوں سے گذرنے والے ممالک ـ منجملہ تیونس اور مصر ـ کے لئے نمونۂ عمل سمجھاجاتا تھا اور لگتا تھا کہ چونکہ یورپ اس ملک کی رکنیت قبول نہیں کررہا ہے لہذا یورپی مخالفت کے رد عمل کے بموجب مشرق کی طرف منہ موڑنے کا عزم کئے ہوئے ہے لیکن شام میں تنازعات جاری رہنے کی وجہ سے اور اس بحرانی کی قبائلی اور فرقہ وارانہ پہلؤوں کے نمایاں ہونے کی وجہ سے ترکی نے اپنے آپ کو ایسے حال میں پایا کہ اسے شام کا بحران حل کرنے کےلئے امریکیوں کو مداخلت پر آمادہ کرنے کی کوششی کرنا پڑی حالانکہ ترک حکومت کچھ عرصے پہلے تک شام میں مغربی مداخلت کے خلاف تھے؛ علاوہ ازیں ترکی کی ترقی کی رفتار بھی ماضی کی مانند نہ رہی اور ترک حکومت کو شام میں مداخلت کی خاطر عراق، ایران اور روس کے ساتھ اختلافات کا سامنا ہے۔اسٹیونز نے لکھا ہے کہ اردوغان اپنے حساب کتاب میں غلطی کر بیٹھے ہیں۔اسٹیونز نے آخر میں لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں عراق کی جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ اور یورپ مشرق وسطی کے جغرافیائی اور سیاسی مقدرات پر قابو پانے سے عاجز ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ترکی یا کوئی دوسرا ملک امریکہ اور یورپ کا خلا پر کرسکے گا۔ ...../169تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: امریکہ نے اردوگان کو دلدل کے بیچ چھوڑا کیوں؟ / ترکی پڑوسیوں کا دوست نہ رہا
6 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 362820
فائنشل ٹائمز کے تجزیہ نگار نے مشرق وسطی کی صورت حال اور اس صورت حال میں ترکی کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ترکی مزید اپنے پڑوسی ملکوں کا دوست نہيں ہے۔