3 نومبر 2012 - 20:30

امریکی عوام، اپنے ملک کے 57 ویں صدارتی انتخابات میں شرکت کرنے والے ہیں جن میں وہ شدید رقابت کے تناظر میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار بارک اوبامہ اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار مٹ رامنی میں سے کسی ایک امیدوار کا انتخاب کریں گے ۔

ابنا: انتخابی مہم کا وقت ختم ہونے سے پہلے دونوں امیدواروں کی جانب سے جان توڑ کوشش کی جارہی ہے تاکہ امریکی عوام کو لبھایا جاسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں امیدواروں نے ایک ہی دن میں کئی ریاستوں کے دورے کئے ہیں ۔ سروے نتائج کے مطابق دونوں امیدواروں میں مقابلہ بہت زیادہ کانٹے کا ہے اور یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ کونسا امیدوار وہائٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگا ۔ دونوں امیدواروں نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ امریکی عوام، انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصّہ لیں ۔ البتہ دونوں پارٹیوں کے روائتی طرفدار ہیں اور بعض ریاستوں کے عوام دونوں میں منقسم ہیں تاہم ابھی تک لاکھوں افراد ایسے ہیں کہ جنھوں نے اپنے امیدوار کا ابھی تک انتخاب نہیں کیا ہے اور ممکنہ طور پر یہی افراد، انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بارک اوبامہ ان افراد کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ انھوں نے اپنے حریف امیدوار سے کہیں زیادہ معاشرے کے متوسط طبقے ۔ جوانوں اور اقلیتوں پر توجہ دی ہے جبکہ ان کی صدارت کے ساڑھے تین برسوں کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ امریکی سماج کی بہت سی توقعات پوری کرنےمیں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کی بناء پر ان کی پارٹی کی سماجی ساکھہ کو دھچکا لگا ہے اور اسی بات کے پیش نظر اوبامہ کو کوئی خاص کامیاب امیداور کی حیثیت سے نہیں دیکھا جارہا ہے ۔ دوسوری جانب حریف امیدوار مٹ رامنی ہیں جو آخری چند گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں جو سماج میں درمیانی عمر اور متوط طبقے کے افراد سے کافی امیدیں لگائے ہوئے ہیں ۔ اگر چہ انتخابات میں کامیابی کے بارے میں ابھی کچھہ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ منتخب ہونے والے نئے صدر کی سرگرمیاں، آئندہ سال کی 20/ جنوری سے شروع ہوجائیں گی اور جنھیں کافی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑیگا کہ جن میں حکومت کا بجٹ تیّار کرنا ۔ عام اخراجات میں کمی ۔ اور گذشتہ دو برسوں کی الیکشن کی فضا کے پیش نظر ٹیکسوں کا تعّین کرنا جیسے مسائل شامل ہیں اور یہی وہ مسائل بھی ہیں جو انتخابی مہم کے اختتام پر حزبی و سیاسی کشمکش میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔  اسی طرح اگر 6/ نومبر کے صدارتی انتخابات میں وہائٹ ہاؤس اور کانگریس، دونوں حریف جماعتوں میں منقسم ہوئے تو سنہ 2014 کے ضمنی انتخابات کے انعقاد تک محاذ آرائی، اور زیادہ شدّت کے ساتھہ جاری رہیگی ۔ اس رو سے ایسا نہیں لگتا کہ 8 ارب ڈالر کے اخراجات کے ساتھہ امریکہ اور دنیا کی تاریخ کے سب سے مہنگے صدارتی انتخابات، امریکہ میں جاری اختلافات کے خاتمے پر منتج ہوں گے ۔...../169