21 اکتوبر 2012 - 20:30

امریکہ اور اسرائیل کی پیروی میں یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف پابندیوں کے نئے سلسلہ کا آغاز کردیا ہے.

ابنا: امریکہ ، اسرائیل اور یورپی یونین کی مثلث ایران کی طرف سے تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لئے‌ یورینیم کی افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے تعبیر کر کے رائے عامہ کو گمراہ کرتی ہے ۔اسی حوالے سے فرانس کے وزیر خارجہ لورن فابیوس نے یورپی ریڈیو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران اگلے سال کے وسط میں ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرلے گا۔ فرانس کے وزیر خارجہ کا حالیہ بیان صیہونی وزیر اعظم کے اس بیان کا چربہ ہے جو انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دیا تھا۔نیتن یاہو نے اپنے بے بنیاد الزام میں کہا تھا دنیا کے پاس صرف اگلے موسم گرما تک فرصت ہے کہ وہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روک لے ورنہ ایران  ایٹمی ہتھیار بنانے کے آخری مرحلے میں داخل ہو جائیگا۔ صیہونی وزیر اعظم نے گذشتہ روز اتوار کو بھی ایک بیان میں ایران کے خلاف پابندیاں بڑھانے اور فوجی آپشن  کے استعمال پر تاکید کی ہے ۔ایران کے خلاف میڈیا وار کا یہ عالم ہے کہ امریکہ کے دونوں امیدواروں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو اپنے انتخابی مزاکروں کا موضوع بنایا ہوا ہے ۔ایران کے خلاف پروپگینڈوں کا بازار گرم کیا جارہا ہے حالانکہ ان کے پاس ایران کے خلاف کسی قسم کا کوئی قابل توجہ ثبوت نہیں ہے اسی طرح پابندیاں لگانے کا بھی کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کا امریکہ ایران کی ترقی کو روکنے اور اسے دوسروں کے لئے نمونہ بننے سے روکنے کے لئے یہ سب کـچـھ کر رہا ہے اور اسی ھدف کے حصول کے لئے دوسرے ممالک پر بھی دباؤ بڑھاتا ہے۔امریکہ اور یورپی یونین کے ان اقدامات کی اسرائیل نے ہمیشہ تعریف کی ہے ۔یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مغرب تعمیری مذاکرات کی بجاےپابندیوں،نفسیاتی جنگ،سیاسی دباؤ۔فوجی دھمکیوں اورایران کے اندر داخلی اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کر کے ایران کی ترقی اور پیشرفت کو روکنا چاہتا ہے حالانکہ ایران نے گذشتہ تینتیس سالوں میں تمام چیلنجوں کا مقابلہ اور سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے   ملت ایران  کی طاقت کے بل بوتے پر  عالمی طاقتوں کو کئی بار شکست سے دوچار کیا ہے۔...../169