ابنا: مغربی ممالک کی نظرمیں مغرب سےوابستہ ذرائع ابلاغ کواختیارہے کہ وہ جس طرح کابھی پروپیگنڈہ یاافواہ پھیلاناچاہیں پھیلاسکتےہیں لیکن خودمختاراورآزاد رہ کرخبررسانی کرنےوالےچینلوں کی آزادی بیان برداشت نہيں ہے۔ ایرانی سٹیلائيٹ ٹی وی چینلوں کو یوٹل سیٹ سے نکالنے کے یورپی یونین کے فیصلے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا کی آزادی کے یہ دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ وہ ایرانی میڈیا کی آواز کو برداشت نہیں کرپارہی ہے اور اپنے ملکوں میں زور زبردستی ایرانی میڈیا کی آواز کو سرکوب کرنا چاہتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ یورپی کمپنی یوٹیل سیٹ نے العالم اور پریس ٹی وی کی نشریات پر کئي مہینوں سے پیراسائٹ بھیج کر خلل ڈالنے کے بعد ہاٹ برڈ ٹراسپانڈر پر سٹیلائيٹ ٹی وی سروس فراہم کرنے والی کمپنی کو ھدایت دی کہ ہاٹ برڈ سے ایران کے چینلوں پریس ٹی وی، العالم، الکوثر، سحرعالمی نیٹ ورک ایک اور دو، قرآن ٹی وی، خبر چینل، جام جم چینل ایک اور دو کو ہٹادے اور ان چینلوں کی نشریات بند کردےیہ ایسےعالم میں ہےکہ پریس ٹی کےچیف نیوزایڈیٹرحمید رضا عمادی نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے مطابق یوٹیل سیٹ کمپنی دوہزار اکیس تک ایرانی چینلوں کو سیٹیلائیٹ نشریات کی سروس دینے کی پابند تھی۔انہوں نے کہاکہ جب انہوں نے اس کمپنی سے رابطہ کیا تو اس کمپنی کے ذمہ داروں نے کہا کہ یورپی یونین کی ہدایات پرایرانی چینلوں کی نشریات بندکرنے کا اقدام کیاگیا ہے اور چونکہ وہ ایک یورپی کمپنی ہے لھذا یورپی یونین اور یورپی کمیشن کے فیصلوں پر عمل کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔ حمید رضا عمادی نے کہا کہ ایرانی چینل عالمی اداروں میں اس مسئلے کو اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کےٹی وی چینلوں پرپابندی جیسےغیرمنطقی رویوں سےسب سےپہلےیہ ثابت ہوتاہےکہ مغرب سیاسی مسائل کی طرح ذرائع ابلاغ اورآزادی بیان کےسلسلےمیں بھی دہرے رویےکاحامل ہے۔جبکہ آزادی بیان اورآزادی صحافت ایک ایسااصول ہےجس کےمطابق مخاطب کویہ حق ہے کہ وہ مختلف ذرائع سےاطلاعات ومعلومات حاصل کرسکتاہےتاکہ وابستہ ذرائع ابلاغ کی
افواہوں سےمتاثرہوئےبغیراپنےپسندیدہ ذرائع سے اطلاعات حاصل کرےاورجھوٹ اورسچ کےدرمیان فرق کااندازہ لگاسکے۔لیکن سوال یہ پیداہوتاہےکہ کیاکہ اس طرح کےدشمنانہ اورمعاندانہ اقدامات سے ایران کی جانب سےصحیح خبررسانی کی کوششوں کوروکاجاسکتاہےیہ جاننےکےلئےاسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئي آر آئي بی کی ایکسٹرنل سروس کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرفراز کایہ بیان ہی کافی ہے کہ ایران اپنے عالمی چینلوں کی نشریات جاری رکھےگا۔ محمد سرفراز نے آج فارس نیوز کو انٹرویو میں ہاٹ برڈ ٹرانسپانڈر سے ایران کے بعض سٹیلائٹ چینلوں کی نشریات بند کئےجانے کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ ہم اپنے سٹیلائیٹ چینلوں کی نشریات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مغربی ممالک ملت ایران کی آواز کو دبا نہیں سکتے اور ان کے ان کاموں سے ہمارے چینلوں کے مخاطبین میں اضافہ ہی ہوگا۔ذہن میں ایک سوال یہ بھی پیداہوتاہےکہ آخرایرانی نیوزچینلوں پرپابندی لگانےکی وجہ کیاہے تواس سلسلےمیں کہنہ مشق تجزیہ نگاروں کی نظرميں ایران کے چینلوں پر اس وجہ سے پابندی لگائي گئي ہے کہ وہ مغربی چینلوں سے الگ موقف رکھتےہيں اورمشرق وسطی کے حالات اور امریکہ اور یورپ میں وال اسٹریٹ جیسے واقعات ، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوام کی احتجاجی تحریک اوراس تحریک کے خلاف حکومتوں کی تشدد آمیز پالیسیوں کی بھرپور کوریج ایران کے چینلوں پرپابندی کی بنیادی وجہ ہے۔ البتہ ایرانی چینلوں پرپابندی عائدکرنےکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایسے دور میں جب امریکہ کی پیروی کرتےہوئےمغربی ممالک نےایران پرسخت پابندیاں عائدکررکھی ہیں اب ٹی وی چینلوں پرپابندی عائدکرکےتہران پرمزید دباؤ ڈالنےکی کوشش کررہےہیں کیونکہ یہ پابندیاں یورپی یونین کےدباؤ میں ہی لگائی گئی ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ پرمغربی ممالک کی جانب سےپابندی لگائےجانےکی اس علت سےبھی انکارمشکل ہے کہ سرکاری امداد سےچلنےوالےمغربی ذرائع ابلاغ کوہرگزیہ توقع نہيں تھی کہ ایران کےٹی وی چینل اتنےبڑےپیمانےپرمخاطب پیداکرسکیں گے اوراس حد تک موثرواقع ہوں گے کہ مغرب کی پالیسیوں پرعالمی ردعمل کاباعث بن جائيں۔ لیکن مغربی ممالک کےاس غیرمنطقی رویےپرجب ہم نےہندوستانی تجزیہ نگارشکیل شمسی سےرابطہ کرکےان کےتاثرات جانناچاہےتوانھوں نےکہا۔۔۔.......
/169