ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے نيويارک ميں امريکا کي خارجہ تعلقات کي کونسل ميں خارجہ پاليسي کے ميدان کے تجزيہ نگاروں، ماہرين اور سينئر صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ايران کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پيش کرنے کي کوشش کرتے ہيں ليکن حقيقت يہ ہے کہ ايران کا اسلامي جمہوري نظام علاقے کے بحرانوں اور مشکلات کو حل کرنے ميں اہم کردار کا حامل ہے۔وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے مغرب ميں اسلاموفوبيا اور اسي طرح ايرنو فوبيا پھيلانے کي سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ بعض حلقے کوشش کررہے ہيں کہ ايران کے عوام کو جن کي تہذيب و ثقافت بہت ہي پراني ہے اور جو انقلابي جذبوں سے سرشار ہيں ديگر اقوام کے مدمقابل لاکھڑا کريں اور مسئلے کو ايٹمي سرگرميوں تک نيچے گراديں۔انہوں نے کہا کہ ان حلقوں کي کوشش ہے کہ ايران کي پرامن ايٹمي سرگرميوں کو چند بے بنياد الزامات ميں تبديل کرديں۔ ايران کے وزير خارجہ نے کہاکہ سياسي ميدان ميں ايرانوفوبياپھيلانے والے حلقے ايران کو بدنام کرنے ، اس پر الزام لگانے اور پھر ايران پر فوجي حملے کي فضا ہموار کرنے کي کوشش کررہے ہیں۔ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ خليج فارس کي سلامتي کا جتنا دارو مدار ايران کي سلامتي پر ہے اتنا کسي اور ملک کي سلامتي سے اس کا تعلق نہيں ہے۔انہوں نے کہاکہ علاقے کي پوزيشن اور جغرافيائي حيثيت نے ايران کي سلامتي کو خليج فارس ميں اس کے ہمسايہ ملکوں کي سلامتي سے جوڑد يا ہے اور اسلامي جمہوريہ ايران اپنے فيصلوں اور پاليسيوں کي بنياد پر خليج فارس ميں امن وسلامتي کويقيني بنانے کے لئے اپنے پڑوسيوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کو تيار ہے۔ وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے شام ميں غير ملکي فوجي مداخلت کے تعلق سے جلد بازي ميں اٹھائے جانےوالے ممکنہ اقدامات کے بار ےميں کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شام کے حالات مزيد پيچيدہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ شام کامسئلہ سياسي اور پرامن طريقے سے ہي حل ہونا چاہیے۔ ايران کے وزير خارجہ نے ايٹمي معاملے کے تعلق سے تہران کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صہيوني ریاست ترک اسلحہ کے کسي بھي کنونشن منجملہ اين پي ٹي کي رکن نہيں ہے اور مشرق وسطي کو ايٹمي ہتھياروں سے پاک کئے جانے کےعمل ميں سب سے بڑي رکاوٹ بني ہوئي ہے۔
.....
/169