ابنا: ماہ اگست ہر سال پاکستانیوں خصوصاً میڈیا اور اس سے وابستہ صحافیوں، تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور قومی نقطہ نظر پر سوچنے اور معاملات کو سمجھنے والے شہریوں سے سوال کرتا ہے کہ ہم حصول پاکستان کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ اس سوال کا جواب بنگلہ دیش کے قیام (1971ء) پھر باقی ماندہ پاکستان کے مدو جز پر نظر ڈالتے ہوئے آج کی ملکی صورتحال میں تلاش کریں تو جواب بہت بڑا اور تشویشناک نہیں بنتا ہے۔ یہ سوال بڑا اس لئے ہے کہ ہم 25 سال میں 57 فیصد آبادی والا صوبہ (مشرقی پاکستان) کھو بیٹھے اور تشویشناک یوں کہ آج پھر ملکی سلامتی سے متعلق بہت سے وسوسے جنم لے چکے ہیں۔ عملی نوعیت کے بڑے بڑے خطرات ہمارے سروں پر منڈلا ہی نہیں رہے، بلکہ ان سے برستے خون و خوف میں اچانک تیزی آجاتی ہے۔
اس صورتحال کا تسلسل 8 سال سے برقرار ہے۔ انتخابی سرگرمیاں شروع ہونے کے باوجود ان میں تیزی آ رہی ہے اور پیچیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے وہ شمال مغربی اور انتہائی شمالی علاقے جو دفاع و سلامتی کی فکر سے 55 سال تک آزاد رہے۔ ان پر آج امریکہ کے زیر کنڑول افغانستان سے حملے ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب اشتہاری مہم سے امریکہ پاکستانی عوام کو دوست اور مددگار ہونے کا یقین دلا رہا ہے۔ بھارت بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔
خطے میں مطلب کی جغرافیائی تبدیلیوں کے نقشے بنا بنا کر ہماری سلامتی کے درپے طاقتیں پاکستان کے مقامی حالات کی پیچیدگیوں کو اپنے لئے سازگار جان کر ایک ایسی جنگ ڈیزائن کرچکی ہیں جو کسی بڑی طاقت پر بھی مسلط ہو جائے تو اس سے جان چھڑانا آسان نہیں۔ اکتفا نیٹو سپلائی کھلنے تک نہیں، ٹارگٹ وابگہ سے طورخم تک بھارت کو ایک آزاد ٹرانزٹ روٹ دلانا بھی ہے۔ ایک روٹ دہشتگردی کی جنگ کے نام پر، اور ایک امن، خوشحالی اور علاقائی استحکام کے نام پر بھارت اور افغانستان کے درمیان امریکہ کو مطلوب ہے۔ دوسری جانب ہمارے گلگت بلتستان، کوئٹہ، چترال اور دیر جیسے پرامن ترین خطے قتل و غارت اور دہشتگردی میں لپیٹ دیئے گئے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد اور ملکی رائے عامہ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مسلسل پاکستان کے حکومتی اور عوامی احتجاج کے باوجود افغان سرزمین سے جس طرح ڈرونز حملوں کا سلسلہ جاری ہے وہ پاکستان اور امریکی حکام اور عسکری اتھارٹیز میں بڑھتی مفاہمت اور اعتماد کی خبروں کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر پورے پاکستان میں دہشتگردی کی جا رہی ہے۔ 8 سال تک ہزاروں معصوم شہریوں کو قتل کرکے ملکی سلامتی کے مراکز کو چن چن کر تخریب کاری اور دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس پر نیٹو کے مہذب ممبر ملک بھی خاموش اور انکا قائد امریکہ بھی۔
اب بلوچستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات پر افغانستان سے دہشتگرد بھیج کر گوریلا کارروائیوں اور دہشتگردی کے ملاپ سے ایسی جنگ مسلط کر دی گئی ہے، جس کی "سپاہ" بڑی محنت، سرمائے اور سازشوں سے اسی ملک سے تیار کی گئی ہے، جس کے خلاف یہ جنگ شروع کی گئی ہے۔ امریکہ بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ جن انتہا پسند "جہادیوں" کی دلدل میں وہ پاکستان آرمی کو دھنسانے کے لئے زور لگا رہا ہے، ان کی تاریخ کیا ہے اور انہیں اس حیثیت میں لانے میں اس کا اپنا کردار کتنا ہے۔ جتنا شئیر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سوویت ایمپائر کو منتشر کرنے میں کیا آج امریکہ، پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے ساتھ ملکر پاکستان کے بنیادی قومی مفادات کے خلاف لگا رہا ہے۔
پاکستان کو اپنے قبائل اور یہاں جمع ہوئے بیرونی ممالک کے انتہاء پسندوں سے ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں الجھانے کیلئے پورا زور لگایا جا رہا ہے۔ تمام تر اعلٰی صلاحیتوں کے باوجود امریکی انتظامیہ اس صلاحیت سے اب بھی محروم ہے کہ وہ پاکستان کی اہمیت اور خطے میں اس کے تسلسل سے امکانی کردار کا صحیح اندازا لگا سکے۔ اس کے تھنک ٹینکس پاکستان کی منتشر، دبی اور دبائی گئی صلاحیتوں کے تناظر میں ہی پاکستان کو دیکھ رہے ہیں۔ واشنگٹن اسلام آباد کی طرح اپنی ہی پیدا کردہ بے انتہاء بحرانی کیفیت کو ہی پیش نظر رکھ رہا ہے۔ کیا پاکستانی قومی مورال کا گراف زیرو پر آنے کے بعد (1971ء) ایٹمی طاقت نہیں بنا؟ اور پاکستان نے اس حیثیت سے پہلے، افغانستان کے خلاف روسی جارحیت کے خاتمے (جو سوویت یونین کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ بنی) میں جو کردار ادا کیا کوئی اور ملک امریکہ کے ساتھ ملکر ادا کرسکتا تھا؟ پاکستانیوں کیلئے اپنے جاری بحران سے نکلنے کا ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ کس طرح امریکی عوام کو یہ سمجھا دیا جائے کہ پاکستان عالمی سیاست کے مکانی منظر میں امریکہ کیلئے کتنا ناگزیر ہوگا۔ اسے زبردستی توڑنا پھوڑنا، نقصان پہنچانا، سلامتی کے خطرات سے دوچار کرنا خود امریکہ اور اس کے حقیقی دوستوں کو بہت مہنگا پڑے گا۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کو متاثر کر دینے والے طاقتور ذرائع امریکی انتظامیہ کو یہ کبھی نہیں سمجھنے دینگے کہ پاکستان نے تمام بحرانوں سے بالآخر نمٹنا ہے اور جلد نمٹ کر ایک ایسا ملک اور قوم بننا ہے جس سے بہتر تعلقات پاکستان سے زیادہ امریکہ کی ضرورت ہوگی۔ پھر یہ بھی کہ یہ ملک ایسا نہیں کہ جسے امریکی تھنک ٹینکس توڑنا پھوڑنا چاہیں یہ ٹوٹ جائے گا۔ ایسا ہوا تو پورے خطے کا نقشہ بدل جائے گا۔ جس میں امریکہ واضح طور پر سامراجی طاقت کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ آج یہ بات دیوانے کی بات معلوم ہوتی ہے۔
جیسے 60 اور 70 کی دہائی میں کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ اور مشرقی یورپ کی آزادی ایک خواب اور نہ پوری ہونے والی خواہش معلوم ہوتا تھا۔ المیہ یہ ہے پاکستان اور امریکہ کے عوام بےحد معصوم اور مخلص اور حاکم بڑے ......... ہیں۔ آنے والے ہر ماہ میں ہم پاکستان کے بارے میں اگست کے ماہ کی طرح سوچیں۔ یہ کہ جس طرح پاکستان ناگزیر تھا اسی طرح اس کی سلامتی کیلئے ہمارا اتحاد بھی ناگزیر ہے۔
.....
/169