26 جولائی 2012 - 19:30

اگر تاریخ ادیان اور دینی کتب کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو پتہ چلےگا کہ بہت سے ادیان وقت گزرنے کے ساتھ متعدد مذاہب اور فرقوں میں بٹ گۓ ۔ بڑے آسمانی ادیان بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں۔

ابنا: آسمانی ادیان لانے والوں کو اس دنیا سے رحلت کۓ ہوۓ چونکہ بہت زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اس لۓ یہ ادیان بھی متعدد فرقوں اور مذاہب میں تقسیم ہو چکے ہیں۔  واضح سی بات ہے کہ اختلافات اور متعدد مذاہب کے وجود میں آنے کا سبب انسانی افکار و نظریات رہے ہیں کیونکہ تمام انبیاۓ کرام کے لاۓ ہوۓ دین میں توحید اہم ترین اصول ہے۔ انبیاۓ کرام علیہم السلام  نے لوگوں کو تفرقے سے منع فرمایا ہے۔ قیامت پر ایمان اور نجات دہندہ کے ظہور ، عدل پسندی اور ظلم کے مقابلے تمام آسمانی ادیان کا ایک اور مشترکہ اصول ہے۔ الہی ادیان کا اس بات پر بھی اتفاق پایا جاتا ہے کہ وحی ، کہ جو تمام معرفتوں کا سرچشمہ ہے خدا تعالی کی جانب سے نازل ہوئي ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دین کا ٹھیک طرح سے نہ سمجھا جانا، سماجی ماحول، لالچ اور مفاد پرستی جیسے امور مختلف مذاہب کے وجود میں آنے کا سبب بنے۔ بعض افراد نے دین کو کما حقہ نہ سمجھا جس کی وجہ سے افراد کے درمیان اختلافات پیدا ہوۓ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اختلافات میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ جس کی وجہ سے عام لوگ بھی تفرقے کا شکار ہوگۓ ہیں۔ بہرحال مختلف فرقوں اور مذاہب کے وجود میں آنے کی وجہ چاہے انسانوں کے غلط افکار و نظریات اور دین کی صحیح معرفت کا قفدان ہو یا انفرادی اور گروہی مفاد پرستی یا سیاسی ریشہ دوانیاں لیکن مختلف فرقوں اور مذاہب کا وجود میں آنا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اور ان فرقوں کی وجہ سے آسمانی ادیان کا اتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ گيا ہے۔ان میں سے بعض فرقوں میں بہت زیادہ تعصب پایا جاتا ہے۔  الہی دین اتحاد و وحدت کا علمبردار ہے لیکن بعض فرقے اختلافات اور تفرقہ کا ذرریعہ بن چکے ہیں۔--------- دوسرے بعض فرقوں کی طرح وہابی فرقے کے وجود میں آنے کا سبب اس فرقے کے بانی کے خاص افکار و نظریات ہیں۔ وہابی فرقے کی بنیاد چونکہ ابن تیمیہ کے افکار ہیں اس لۓ دین اسلام سے متعلق ابن تیمیہ کے افکار و نظریات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔سنہ 661 ہجری قمری میں حرّان شہر میں تقی الدین احمد عبدالحلیم پیدا ہوا جس نے بعد میں ابن تیمیہ کے نام سے شہرت پائي۔ حرّان شہر اس زمانے میں حنبلی فرقے کا ایک اہم تعلیمی مرکز شمار ہوتا تھا۔ جنوبی ترکی میں واقع یہ شہر اب ایک ویرانے میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن قدیم زمانے میں یہ باعظمت اور تہذیب و تمدن کا حامل ایک شہر تھا۔ ابن تیمیہ نے ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی کہ جو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے تک مذہب حنبلی کا علمبردار رہ چکا تھا اور اس خاندان نے متعدد دینی کتابیں تحریر کیں۔ ابن تیمیہ کا والد حرّان کا ایک معروف فقیہ تھا اور وہ شیخ البلد کے نام سے مشہور تھا۔ حرّان کے لوگ اسے اسلامی علوم کے مدرس اور خطیب کے طور پر جانتے تھے۔ دوسری جانب ابن تیمیہ کے زمانے میں ہی منگولوں نے اسلامی سرزمینوں کو اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس زمانے میں منگول انتہائی بربریت کے ساتھ اسلامی سرزمینوں پر قبضے میں مشغول تھے اور آۓ دن ان کی فتوحات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ اس زمانے میں مسلمان دانشمندوں کی بہت گرانقدر کتابیں منگولوں کی لوٹ مار کا شکار یا نابود ہوگئيں۔مشہور عرب مورخ ابن کثیر نے لکھا ہےکہ سنہ 667 ہجری قمری میں ، کہ جب ابن تیمیہ کی عمر چھ سال سے زیادہ نہیں تھی،  حرّان شہر پر منگولوں کے دباؤ میں شدت پیدا ہوئي حتی کہ اس شہر کے لوگ منگولوں کے ڈر سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگۓ۔ ابن تیمیہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ حرّان سے دمشق چلا گیا۔ دمشق ہجرت کے بعد ابن تیمیہ کا والد دارالحدیث کا سربراہ بن گئے اور وہاں تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ابن تیمیہ نے جوانی کا زمانہ دمشق میں گزارا ۔ اس نے اپنے والد اور دمشق کے دوسرے علماء سے فقہ ، حدیث ، اصول ، کلام اور تفسیر جیسے علوم کی تعلیم حاصل کی۔ والد کی وفات کے بعد وہ ان کی کرسی پر بیٹھا اور اس نے تفسیر قرآن کی تدریس کا آغاز کردیا۔ابن تیمیہ نے دوسرے ادیان و مذاہب کا مطالعہ بھی شروع کیا اور ایسے فتاوی دیۓ جو اہل سنت کے چاروں مذاہب اور شیعہ مذہب کے فتاوی سے مختلف تھے۔ اس نے مسلمانوں کے درمیان رائج بعض عقائد اور روایات پر تنقید کی اور بعض روایات پر عمل کو خدا تعالی سے دوری اور شرک کا باعث قرار دیا۔ در حقیقت ابن تیمیہ کی نشیب و فراز والی زندگی کا آغاز متضاد نظریات کو بیان کرنے اور مسلمانوں کے بعض مسلمہ عقائد پر تنقید کرنےکے ساتھ ہوا۔ سنہ 698 ہجری قمری تک ابن تیمیہ کے نظریات منظر عام پر نہیں آۓ تھے ۔ لیکن اس زمانے کے بعد  اسکےافکار نظریات سے لوگ تدریجا واقف ہوۓ۔ مثلا اسی برس  اس نے اشعری مذہب کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کے بعد دمشق میں اچھا خاصا تنازعہ کھڑا ہوگيا۔ابن تیمیہ اپنے آپ کو سلفی قرار دیتا تھا۔ لغت میں جس کے معنی رفتگان کی اندھی تقلید کرنے والے کے ہیں۔ البتہ سلفیہ ایک ایسے فرقے کا نام ہے جو پیغمبراکرم ص ، صحابہ کرام اور تابعین کی پیروی کا مدعی تھا۔ تابعین ان افراد کو کہا جاتا ہے جنہوں نے کسی ایک صحابی یا متعدد صحابہ سے ملاقات کی ہو۔ سلفیوں کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی عقائد کو صرف قرآن و سنت سے حاصل کرنا چاہۓ اور علماء کو قرآن کی بیان کردہ کسی بھی دلیل کو پیش نہیں کرنا چاہۓ۔ سلفیوں کے نزدیک عقلی اور منطقی دلائل کی کوئي گنجائش نہیں ہے۔ اور ان کے نزدیک قرآن کریم کی آیات اور احادیث دلالت کے لۓ کافی ہیں۔ سلفی بہت زیادہ جمود اور تعصب کا شکار تھے اور وہ اپنے مخالفین کے ساتھ بہت سختی سے پیش آتے تھے۔ ابن تیمیہ نے اسلام کی جانب بازگشت کے بہانے مختلف اسلامی مسائل کے بارے میں ایسے نظریات بیان کۓ جن کی رو سے مسلمانوں کے بہت سے اعمال اور عقائد کے آگے سوالیہ نشان لگ سکتا تھا اور بہت سے مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج قرار پاتے۔جب ابن تیمیہ نے اپنے خاص عقائد اور افکار نظریات بیان کۓ تو ان پر شدید تنقید کی گئی۔ خاص طور پر خدا تعالی کی صفات سے متعلق اس کے عقائد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خدا تعالی کے بارے میں اس کا نظریہ تھا کہ وہ جسم رکھتا ہے اور آسمان پر بیٹھا ہوا ہے۔ ابن تیمیہ پہلا مسلمان تھا جو خدا تعالی کے لۓ جسم کا قائل ہوا۔ اور اس سلسلے میں اس نے متعدد کتابچے بھی تحریر کۓ۔ اس نے پیغمبر اکرم ص کی زیارت اور آپ کے احترام کو حرام اور شرک قرار دیا۔ اس کے دوسرے عقائد میں اولیاۓ کرام اور صالحین کے ساتھ توسل کو بھی حرام قرار دیا جانا بھی شامل ہے کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس عمل کے معنی غیر خدا کے ساتھ توسل کرنے کے ہیں۔ ابن تیمیہ انبیاۓ کرام اور صالحین کی قبور کے پاس مساجد کی تعمیر کا بھی مخالف تھا۔ اور ان اعمال کو شرک جانتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مختلف اسلامی مذاہب کے علماء نے اس کی شدید مخالفت کی۔ وہ ایسے فرد کو برداشت نہیں کرسکتے تھے جو خدا تعالی کے لۓ جسم اور انسانی صفات جیسے صفات کا قائل تھا۔ علماء نے قرآن کریم کی آیات کو سامنے رکھتے ہوۓ کہ جن میں خدا تعالی کو جسمانیت اور انسانی ادراک سے بالا تر قرار دیا گیا ہے، ابن تیمیہ کے عقائد کے خلاف کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ ابن تیمیہ کے گمراہ کن عقائد کا نوٹس لے۔ ابن تیمیہ شدید اعتراضات کے باوجود اپنے عقائد پر اڑا رہا۔ وہ اپنے مخالفین کو کافر کہتا تھا ۔ اور اپنی بعض تحریروں میں اس نے ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کۓ ہیں۔تاریخ میں آیا ہے کہ سنہ سات سو تین ہجری قمری میں جب ابن تیمیہ نے مسلمان عارف محی الدین عربی کی کتاب فصوص الحکم پڑھی تو اسے اپنے عقائد کے خلاف پایا اور پھر النصوص علی الفصوص  کے نام سے اس کے جواب میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے محی الدین عربی اور ان کے پیرووں پر لعن طعن کی۔اس طرح اختلافات اور تفرقے میں روز بروز شدت پیدا ہوتی گئی۔ ابن تیمیہ کے نظریات کی وجہ سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا رہا۔ نتیجتا سنہ سات سو پانچ ہجری قمری میں شام کی ایک عدالت نے اسے مصر جلاوطن کردیا۔ابن تیمیہ سنہ 707 میں جیل سے رہا ہوا۔ اور چند سالوں کے بعد شام واپس لوٹ گیا۔ اور دوبارہ اپنے عقائد کی ترویج میں مصروف ہوگیا۔ سنہ 721 میں دوبارہ اسے قید کی سزا ہوئي اور آخرکار بیس ذیقعدہ سنہ 728ہجری قمری کو دمشق کی جیل میں اس کا انتقال ہوگيا۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی مسائل کے بارے میں ابن تیمیہ کے افکار نظریات کا نتیجہ سواے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور بہت سے اسلامی آداب اور عقائد کی نفی کے اور کچھ برآمد نہ ہوا۔ لیکن مسلمان علماء کی جانب سے دیۓ جانے والے مدلل جوابات کی وجہ سے کچھ عرصے کے بعد اس کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ 

.......

/169