13 جولائی 2012 - 19:30

حکومت کوئٹہ اور سرگودھا ميں شيعہ عمائدين کے قتل کا نوٹس لے ، پنجاب اور بلوچستان حکومت کا کالعدم دہشتگرد جماعتوں سے گٹھ جوڑ انھيں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیگا

ابنا: وحدت ہاؤس سے جاری اپنے مذمتی بيان ميں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ايک مرتبہ پھر دہشتگردوں کا سر اٹھنا اس بات کی غمازی ہے کہ دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ جہاں چاہيں اپنے مذموم مقاصد حاصل کريں۔

حکومت کوئٹہ  اور سرگودھا ميں شہيد ہونے والے 4 شيعہ عمائدين کے بہيمانہ قتل کا نوٹس لے۔ چيف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلوچستان اور پنجاب ميں دہشتگردی نظر نہيں آتی۔ پنجاب حکومت کالعدم دہشتگردوں کی مبينہ سرپرستی نہ کرتی تو سانحہ اچھرہ اور گجرات جسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ ان خيالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمين کے سيکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفري نے وحدت ہاؤس سے جاری اپنے مذمتی بيان ميں کيا۔ اُنکا کہنا تھا کہ ملک کے چاروں صوبوں ميں دہشتگردوں کی عملی حکمرانی ہے۔

بلوچستان، پنجاب سميت ملک کے ديگر صوبوں ميں ايک مرتبہ پھر دہشتگردوں کا سر اٹھنا اس بات کی غمازی ہے کہ دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ جہاں چاہيں اپنے مذموم مقاصد حاصل کريں، جس کی واضح مثال گزشتہ دنوں کوئٹہ ميں اغواء کے بعد ذبح کئے جانے والے حسيب زيدی اور مولانا نور علی ہيں، جن کو کالعدم دہشتگرد گروہ نے اغواء کيا اور 20 روز کے بعد ان کے گھر والوں سے تاوان کا مطالبہ کيا گيا، تاوان وصول کرنے کے بعد شيعہ اور پاکستانی ہونے کے جرم ميں انھيں قتل کيا گيا۔ اس صورتحال پر حکومت بلوچستان کی خاموشی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمين بارہا يہ بات باور کراتی رہی ہے کہ حکومت بلوچستان اور پنجاب حکومت کے اعلٰی حکام کا کالعدم دہشتگرد جماعتوں سے مبينہ گٹھ جوڑ ايک دن انھيں تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گا۔

.......

/169