11 جولائی 2012 - 19:30

لبنان کي سرحد پر صہیوني ریاست کے فوجيوں کي جارحانہ نقل و حرکت ميں وسعت آگئ ہے -

ابنا: صہیوني فوجيوں نے لبنان کي سرحد پر اشتعال انگيزي کا سلسلہ جاري رکھتے ہوئے  اپنے ناجائز قبضے کو مضبوط بنانے کي غرض سے جنوبي لبنان  کے بعض علاقوں ميں داراندازي کي کوشش شروع کردي ہے –اسرائيل کے جنگي طياروں نے بھي لبنان کي فضائي حدود کي بڑے پيمانے پر خلاف ورزي کي ہے اور کئي بار انہيں پروازيں بھرتے ديکھا گيا ہے-لبنان کے خلاف اسرائيل کي تازہ اشتعال انگيزياں ايسے وقت ميں شروع ہوئي ہيں جب اس نے شبعافارم، کفرشوبا اور غجر جيسے لبناني علاقوں پر پہلے ہي ناجائز قبضہ کر رکھا ہے-  اسرائيل کي تازہ اشتعال انگيزيوں سے لبنان کے خلاف اس کے نا پاک عزائم کا پتہ چلتا ہے- لبنان کے خلاف اسرائيل کي اشتعال انگيزيوں ميں اضافے کے ساتھ ہي بيروت کے خلاف امريکي سازشوں ميں بھي زبردست اور خطرناک حدتک اضافہ ہوگيا ہے-امريکہ اور اسکے يورپي اتحادي لبنان کو کمزور کر کے اسے مغرب کي علاقائي پاليسيوں کا ہمنوا بنانے کي کوشش کر رہے ہيں- دوسري جانب عوام کي تحريک مزاحمت، اسرائيل کي سازشوں کے مقابلے ميں سب سے بڑي رکاوٹ بني ہوئي ہے، يہي وجہ ہے کہ امريکہ اور اسرائيل تحريک مزاحمت کو کمزور اور اس کي عوامي حمايت ميں کمي کرکے اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کي کوشش کر رہے ہيں- يہ ايسے وقت ميں کيا جارہا ہے جب لبنان کو کمزور بنانے کي غرض سے حکومت امريکہ کي مخاصمانہ پاليسيوں کے تحت امريکي حکام لبنان ميں عدم استحکام اور خانہ جنگي پيدا کرکے اسے فرقہ واريت اور انتشار کا شکار بنا کر اسے کمزور کرنا چاہتے ہيں-اسي سازش کے تحت امريکہ نے  لبنان کے مغرب نواز سياسي دھڑے چودہ مارچ نامي گروپ کے تعاون سے شمالي لبنان سميت پورے ملک ميں انارکي پھيلانے کي کوششيں شروع کردي ہيں - امريکہ کي ايک اور سازش اس ملک کي آزادانہ اور خودمختار پاليسيوں پر اثر انداز ہونے کي غرض سے لبنان کي سرحدوں کو ناامن کرنا اور اسے شام کے خلاف  شيطاني پاليسيوں پر عملدرآمد اور دہشتگردوں  اور باغيوں کو اسلحے  کي فراہمي اورتربيت کے ايک مرکز ميں تبدیل کرنا ہے-اسي مقصد کے تحت امريکي حکام نے شام کے ساتھ لبناني سرحد ميں ايک بفرزون بنانے کي بات کي ہے اور اپنے ايجنٹوں کے ذريعے اس منصوبے کو کامياب بنانے کي کوشش کر رہے ہيں- لبنان کي صورتحال اس بات کي نشاندھي کر رہی ہے کہ اس ملک کے خلاف اسرائيل کي جارحيت اور امريکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات نے اب انتہائي خطرناک شکل اختيار کرلي ہے-

.......

/169