ابنا: لیبیا کے جنوبی مغربی علاقوں میں یہ قبائلی جھڑپیں اتنی شدید تھیں کہ ملک کی سیکورٹی فورسز کو مجبورا مداخلت کرنا پڑی اور اس وقت بھی سیکورٹی فورسز حالات پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ان علاقوں میں تعینات ہے۔ان جھڑپوں کی اصل وجہ اگر چہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس علاقے کے ایک شخص کو چیک پوسٹ پر قتل کردیا گیا تھا۔مگربہت سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کے مغربی علاقوں بالخصوص الزنتان علاقےمیں حالیہ جھڑپیں اس ملک کے انقلابیوں اور سابقہ ڈکٹیٹر معمر قذافی کے باقی ماندہ حامیوں کے درمیان ہوئی ہیں۔الزنتان قبیلے کے انقلابی ان افراد میں ہیں جنہوں نے لیبیا کی سابق حکومت کا تختہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لہذا وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں ۔جب کہ المشاشیہ قبیلے نے لیبیا کے انقلاب کے خلاف آخری دم تک جانفشانی کی ہے مگران میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں قبیلوں نے حالیہ جھڑپوں میں ایک دوسرے کے خلاف ہلکے اور بھاری ہر طرح کے ہتھیار استعمال کئے ہیں اور یہ ہتھیار انقلاب کے زمانے سے ہی ان قبیلوں کے پاس موجود ہیں۔ اگر چہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے لوگوں سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ اپنے اپنے ہتھیار جمع کرادیں لیکن ابھی تک نہ صرف عوام بلکہ انقلابیوں ، نیم فوجی دستوں اور قبائلی سرداروں نےبھی قومی عبوری کونسل کی اس اپیل کا خیر مقدم نہیں کیا ہے ۔اگر چہ لیبیا میں جو ایک قبائلی نظام پر مشتمل ملک ہے قومی ، گروہی ، اور قبائلی جھڑپیں کوئي نئی بات نہیں ہے لیکن چونکہ اس وقت یہ ملک ایک عبوری دور سے گذ رہا ہے لہذا ہرطرح کی جھڑپیں اور باہمی رنجشیں اس ملک کے انقلاب کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں لیبیا میں جو مختلف جھڑپیں ہوئیں ہیں ان میں سبھی انقلابی عناصر اور قبائلی افراد ایک ساتھ تھے اور فوج ان کے مقابل کھڑی تھی۔ لیبیا ایک ایسا ملک ہے جو کئی برسوں سے ایک مطلق العنان شخص قذافی کے خود ساختہ قوانین اورحکمرانہ نظام کے مطابق چل رہا تھااور کہا جا سکتا ہے کہ قذافی کے دور حکومت میں لیبیا کے حکومتی نظام کی دنیا میں کوئی اور مثال پیش نہیں کی جا سکتی اور آج بھی قومی عبوری کونسل ایک ایسے ہی سیاسی نظام کی وارث ہے ۔اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور موجودہ حالات پر کس طرح قابو پایا جائے گا ، اطمینان کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔......./169
22 جون 2012 - 19:30
News ID: 324192
گذشتہ ہفتے کے دوران لیبیا کے جنوبی مغربی علاقے میں مختلف قبیلوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں ۔ یہ جھڑپیں دو قبیلوں "المشاشیہ " اور" الزنتان " کے درمیان ہوئیں جس کے نتیجے میں کم از کم چھ سو پانچ افراد ہلاک اور زخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں.