21 جون 2012 - 19:30

بحرینی سیاستدان نے انکشاف کیا ہے کہ مصر کے معزول آمر حسنی مبارک اور سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، بیرون ملک مقیم بحرینی سیاستدان "قاسم الہاشمی" نے العالم کے ساتھ بات چـیت کرتے ہوئے کہا بحرین میں آل خلیفہ خاندان اور سعودی جارحین کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور کہا: حال ہی میں بحرین کے حالات قابو سے باہر ہونے کے خدشات پر بحث کرنے کے بہانے، بحرین کے دارالحکومت میں امریکہ، آل سعود اور یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کا ایک خفیہ اجلاس ہوا اور اس اجلاس کے اہم ترین نتائج یہ تھے کہ "سابق مصری آمر حسنی مبارک اور موجودہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو قتل کیا جائے، مصر کو خانہ جنگی کی نذر کیا جائے اور بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی بھرپور امداد کی جائے اور عبداللہ کے بعد سعودی عرب کی بھی بھرپور مدد کی جائے!!۔
انھوں نے کہا: اس سہ روزہ اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، یہودی ـ صہیونی ریاست (اسرائیل)، سعودی عرب اور بحرین کی خفیہ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار افراد اور سربراہان نے شرکت کی اور یہ لوگ ابھی تک بحرین میں قیام پذیر ہیں۔
الہاشمی نے کہا: بحرین کا دارالحکومت "منامہ" آج کل علاقے میں جاسوسی ایجنسیوں کے آپریشن روم میں  تبدیل کیا گیا ہے اور اس آپریشن روم کے توسط سے امریکہ، برطانیہ اور صہیونی ریاست کے متعلقلہ ادارے متعلقہ امور کی انجام دہی سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔
الہاشمی نے کہا: مذکورہ ممالک مصر میں عوامی تحریک اور مصر کے قابو سے خارج ہونے کے حوالے سے فکرمند ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر مصر امریکہ اور صہیونی ریاست کے قابو سے باہر ہوجائے تو صہیونی ریاست پر زبردست دباؤ آسکتا ہے۔
انھوں نے کہا: ہم آل خلیفہ اور سعودی جارحین و قابضین کے ہاتھوں ملت بحرین پر ظلم وجبر اور امریکی، صہیونی اور سعودی جاسوسی اداروں کی بحرین میں موجودگی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110