اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے معزول مصری آمر حسنی مبارک کو حالت بگڑنے کی بنا پر "طرہ جیل" سے قریبی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تو وہاں وہ جیل سے ایک قرببی فوجی اسپتال منتقل کئے گئے جہاں ان پر ایک شدید دماغی حملہ ہوا اور ڈاکٹروں نے انہیں لوٹانے کے لئے بجلی کے کرنٹ کا استعمال کیا۔ اس وقت مصر کے سابق ڈکٹیٹر کومے (گہری بے ہوشی) میں ہیں۔دریں اثناء سابق مصری آمر کی موت کے بارے میں چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں اور بعض ذرائع کہہ رہے ہیں کہ وہ دماغی موت (Brain Death) کا شکار ہوئے ہیں، طبیعی سانس نہیں لے رہے بلکہ انہیں مصنوعی سانس سے زندہ رکھا جارہا ہے۔اسپتال کے ذرائع نے حسنی مبارک کی حالت کو انتہائی نازک قرار دیا ہےمصر کے کریمنل کورٹ نے حال ہی میں حسنی مبارک کو عوام کے قتل عام کا حکم دینے کی بنا پر حسنی مبارک کو موت کی سزا سنائی ہے جبکہ مصر کے قانون کے مطابق اگر ایک عام آدمی ایک انسان کو قتل کرے تو اس کو موت کی سزا دی جاتی ہے لیکن حسنی مبارک کو 1000 کے لگ بھگ قتلوں پر عمر قید کی سزا دی جارہی ہے اور ان کے بیٹوں کو مصر کے مال و دولت اور سیاہ و سفید کا اختیار ہونے اور اربوں ڈالر چرانے کے باوجود بری کردیا گیا ہے۔دریں اثناء فوج کی طرف سے انقلاب مخالف بغاوت کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور اس کے باوجود کہ اخوان المسلمین کے صدارتی امیدوار محمد مرسی نے اکثریتی ووٹ حاصل کرلئے ہیں اور وہ صدر مصر بن چکے ہیں، عوام نے فوج کی طرف سے باقاعدہ بغاوت کے امکان کے پیش نظر بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے شہروں کے مرکزی میدانوں میں حاضر رہنے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور قاہرہ کے میدان التحریر سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں کے مرکزی میدانوں اور چوراہوں پر حاضر حاضر ہیں۔ یاد رہے کہ مصر کے اسرائیل نواز فوجی جرنیلوں نے منتخب پارلیمان کو تحلیل کیا ہوا اور آئينی ترمیموں کے ذریعے فوج کو منتخب اداروں پر فوقیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110

اسپتال کے ذرائع نے حسنی مبارک کی حالت کو انتہائی نازک قرار دیا ہے
