18 مئی 2012 - 19:30

سعودی عرب میں بحرین کےالحاق کےسیاسی منصوبےپرتنقیداوراحتجاجات کاسلسلہ بدستورجاری ہے اور ناقدین اس منصوبےکوقانونی لحاظ سےناقابل عمل اور سیاسی لحاظ سےایک سازش قراردےرہےہیں۔

ابنا: بحرین میں حکومت مخالف اعتراضات اوراحتجاجات میں اضافے اور آل خلیفہ کی صورت حال پیچیدہ ہونے کی بناپر سعودی عرب سےبحرین کےالحاق کامعاملہ زيرغورآیا۔اس کےباوجود کہ خلیج فارس تعاون کونسل میں اس کی مخالفت کی گئی لیکن آل خلیفہ اورآل سعود اس پرمسلسل تاکیدکررہےہيں۔درحقیقت سعودی عرب نے بحرین کوہمیشہ ہی لالچی نظروں سےدیکھاہے اوراس ملک پرلشکرکشی کےبعدسےہی اسےاپنےزیرتسلط لینےکی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ سعودی عرب اوربحرین کےالحاق کامعاملہ سامنےآنےکےبعد سےہی ملکی اورغیرملکی سطح پربڑےپیمانےپرتنقیدیں شروع ہوگئی ہيں ۔ ناقدین اس سلسلےمیں نہایت اہم موضوعات کی جانب اشارہ کررہےہيں جس نےاس پرعمل درآمد کومشکل بنادیاہے۔سب سےپہلی بات یہ ہےکہ دوملکوں کےدرمیان اتحاد کوئی ایسی چیزنہيں ہے جس پرملکوں کےحکام اکیلےہی فیصلہ کرلیں بلکہ اس طرح کےمسائل کےلئےعوامی ریفرینڈم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کےمنشور میں بھی عوام کواپنی قسمت کافیصلہ کرنےکاحق دیاگیاہے۔اس بنیاد پر بحرین کی جمعیت الوفاق نے اس ملک کےسب سےبڑےمخالف گروہ کی حیثیت سے ایک بیان جاری کرکےتاکیدکی ہےکہ کسی ملک کےشہری طاقت کااصلی سرچشمہ اوراپنےملک کی قسمت کااصلی فیصلہ کرنےوالےہوتےہں اوربین الاقوامی قوانین کےمطابق اس طرح کاالحاق عوام کی رائے اور ریفرینڈم کےذریعےہی ہوسکتاہے۔اس الحاق کےمنصوبےکےخلاف بحرینی عوام مسلسل مظاہرہ کررہےہيں کل جمعہ کےدن بھی بحرینی عوام نے زبردست مظاہرہ کرکے سعودی عرب سےالحاق کےمنصوبےکی شدیدمخالفت کی اوراسےسیاسی سازش قراردیا۔دوسرا اہم موضوع جسےمدنظررکھناچاہئے وہ سعودی عرب اور بحرین کےالحاق کامسئلہ اٹھائےجانےکےوقت کا ہے ۔درحقیقت یہ منصوبہ اس وقت سامنےآیاجب آل خلیفہ کوزبردست عوامی احتجاجات کاسامنا ہے اور اسےعوامی حمایت اورقانونی حیثیت حاصل نہيں ہے۔بحرین کی حکومت اس وقت عوام کی نظروں میں اپنی قانونی حیثیت کھوچکی ہے اور اس میں یہ صلاحیت ہی نہيں ہے کہ وہ اس طرح کابڑا بین الاقوامی معاہدہ کرےجواہم نتائج کاحامل ہے۔ان حالات میں اس طرح کےمنصوبےکامقصد بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کوناکام بناناہے اس بنا پر عرب ماہرین اوردانشوراس منصوبےکامذاق اڑاتےہوئےاسےبحرین کوہڑپ کرنےکےلئےایک سازسش قراردےرہےہیں۔بحرین کی عمل اسلامی پارٹی کےرہنماڈاکٹرراشدالراشد نےسعودی عرب سےبحرین کےالحاق کےمنصوبےکواس ملک کوہڑپ کرنےکی ایک سازش قراردیتےہوئے تاکیدکی ہےکہ دونوں ملکوں کےاتحاد کےلئے خاص شرائط اورحالات کی ضرورت ہے جس میں سب سےاہم شرط ان دونوں ملکوں میں ڈیموکریسی اورانسانی حقوق کےاحترام کاپایاجانا ہے جوایک دوسرےسےملحق ہوناچاہتےہيں جبکہ آل خلیفہ اورآل سعود دونوں کی حکومتوں میں انسانی حقوق کافقدان ہے۔ اس سلسلےمیں تیسرامسئلہ یہ ہے کہ بحرین ایک خودمختار اوراقوام متحدہ کارکن ملک ہے اس بناپر بحرین اورسعودی عرب کےالحاق کےبارےمیں فیصلہ آل سعوداورآل خلیفہ نہيں کرسکتےبلکہ اس سلسلےميں بین الاقوامی قوانین کومدنظرسمجھاجاناچاہئے جس میں سب سےاہم بحرینی عوام کی رائےہے۔ان تینوں موضوعات کونظرانداز کئےجانےسے بحرین اورسعودی عرب کےاتحاد کےمنصوبےکاسازش ہونا کھل کرواضح ہوجاتاہے اس بنا پر اس منصوبہ پرملکی اورغیرملکی حلقوں میں شدیدتنقید ہورہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کےمختلف شہروں کےعوام نےبھی نمازجمعہ کےبعد بحرین کےمظلوم عوام کی حمایت اور سعودی عرب سےبحرین کےالحاق کےمنصوبےکی مذمت میں پورےملک میں زبردست مظاہرےکئے ہيں۔........

/169