26 مارچ 2012 - 19:30

جنوبی کوریا کے دار الحکومت سئول میں جوہری سیکیورٹی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر بارک اوباما اور پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ابنا: پاکستان کے باخبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی پارلیمنٹ واشنگٹن کے ساتھہ تعلقات پر نظر ثانی کے حوالے سے منصفانہ فیصلہ اور امریکہ کی سیکیورٹی کی ضروریات پر توجہ دیگی۔

بارک اوباما نے اسی طرح کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہائٹ ہاؤس کے ساتھہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں اپنے فیصلے میں امریکہ کیلئے باعث مشکلات مسائل منجملہ دہشتگردی کے خلاف مہم کو بھی مد نظر رکھے۔ گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں سرحدی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ نیٹو کے اس حملے پر کہ جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے حکومت اسلام آباد کا اہم ترین رد عمل،تورخم اور چمن کی سرحدوں کو بند کرنا تھا جو افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کیلئے ایندھن اور دیگر ضروری سامان و اشیاء کی منتقلی کے لئے اہم راستے شمار ہوتے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر کے مہینے سے جب بھی نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کیلئے سرحدیں کھولے جانے کا کوئی مسئلہ اٹھا تو پاکستان کے عوام اور مختلف قومی۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید مخالفت کا اظہار کیا گيا۔ کچھہ عرصے قبل بھی پاکستان کے مختلف قومی اور مذہبی گروہوں نے اپنے ایک بیان میں نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کیلئے سرحدیں بند رکھنے کی پالیسی پر نظر ثانی کے بارے میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے کسی بھی طرح کے فیصلے پر خبر دار کیا تھا۔

جنگ افغانستان میں امریکہ کیلئے پاکستان کی اسٹریٹیجیک پوزیشن،اسلام آباد کے ساتھہ جاری کشیدہ تعلقات پر امریکہ کے سیاسی و فوجی حکام کی جانب سے اظہار تشویش کئے جانے اور نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کیلئے سرحدیں بند رکھے جانے کی جاری پالیسی کو اہم سمجھے جانے کا باعث بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گيلانی کے ساتھہ ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے ساتھہ تعلقات کی بہتری کو اپنے ملک کی ضرورت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں جسے واشنگٹن دہشتگردی کے خلاف جنگ کہتا ہے وہائٹ ہاؤس کی صورت حال درک کرے ۔امریکی صدر بارک اوباما نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے یہ درخواست ایسی صورت میں کی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے امریکہ کے ساتھہ تعلقات پر نظر ثانی کا مسئلہ اپنے ایجنڈے میں شامل کررکھا ہے اور ابھی تک اس حوالے سے کسی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

نیٹو کے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کیلئے تورخم اور چمن کی سرحدیں کھولنے کیلئے اس تنظیم کے ساتھہ مشروط تعاون کے بارے میں پاکستان کے بعض حکام منجملہ اس ملک کے وزیر دفاع کے موقف کے پیش نظر ایسا بعید معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھہ تعلقات کے حوالے سے دو طرفہ تعاون منقطع کئے جانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کریگی۔ چنانچے اس بات کے مّد نظر کہ پاکستان ان تین ملکوں میں شمار ہوتا ہے جوامریکہ سے زیادہ سے زیادہ امداد حاصل کرتے ہیں واشنگٹن کے ساتھہ تعلقات کاعمل جاری رکھنا اسلام آباد کیلئے حیات بخش پہلو کا حامل ہے۔ ......./169