17 اگست 2026 - 15:59
پہلی قسط | اسرائیل کا ایٹمی ترکِ اسلحہ، جنگ کے خاتمے کی بنیادی شرط کیوں؟

ایران کا یہ مؤقف محض ایک سیاسی چال یا سفارتی حربہ نہیں، بلکہ ایک گہرے اسٹراٹیجک تصور کا مظہر ہے۔ ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ حقیقی امن تب ہی ممکن ہے جب خطے میں طاقت کا توازن ایک منصفانہ اور پائیدار بنیاد پر استوار ہو۔ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیار اس توازن کو تباہ کرنے والا سب سے بڑا عنصر ہے، اور جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا، کوئی بھی جنگ بندی عارضی اور غیر مستحکم رہے گی۔ لہٰذا، ایران کا یہ مطالبہ کہ 'ناجائز، غاصب اور توسیع پسند اسرائیلی ریاست کا ایٹمی ترکِ اسلحہ کو مذاکرات کا نقطۂ آغاز بنایا جائے' ایک دانشمندانہ، حقیقت پسندانہ اور دوراندیشانہ موقف ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالمی سیاست کا نظام ہمیشہ سے "طاقت کے توازنِ" کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہ توازن خواہ مثبت ہو یا منفی، کسی بھی ملک کی طویل مدتی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ ایران، جو مشرق وسطیٰ کے قلب میں واقع ایک اہم طاقت ہے، اس توازن میں ہونے والی کسی بھی جنبش کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ موجودہ تنازع میں امریکہ اور صہیونی ریاست ایران کے خلاف ایک دشوار صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔ اب ان کے سامنے دو ہی راستے ہیں:

پہلا، ایران پر مزید شدید حملہ کر کے اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنا؛ اور

دوسرا، فوجی شکست کو تسلیم کر کے دوسرے شعبوں ـ جیسے پابندیوں، اقتصادی جنگ، اور نفسیاتی کارروائیوں ـ کے ذریعے اپنی خباثت جاری رکھنا۔

ان دو منظرناموں کے مقابلے میں ایران کا کیا رد عمل ہونا چاہئے

ایران نے ان دونوں امکانات کے لئے واضح حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، تو ایران متناسب جواب دے گا اور جنگ کے نئے محاذ کھول دے گا۔ اس بار جنگ کا دائرہ یقیناً علاقائی حدود سے باہر ہو گا، اور ایسے جنگی طریقے استعمال کئے جائیں گے جن کا دشمن کو کوئی تجربہ نہیں ہے؛ جیسا کہ رہبر انقلاب نے اپنے پیغام میں اشارہ فرمایا۔ یہ نیا اندازِ جنگ، یقینی طور پر، دشمن کے لئے حیرت اور الجھن کا باعث بنے گا۔

مگر اصل مسئلہ وہاں آتا ہے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ بیچ میں آتا ہے۔ اگر کشیدگی ایٹمی سطح تک جا پہنچتی ہے، تو اس کے نتائج صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ امریکہ کے لئے اس کے نتائج بہت سنگین ہونگے اور عالمی امن و امان کے لئے سنگین خطرہ بن جائیں گے۔

امریکہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس طرح کی صورتحال روس-یوکرین جنگ جیسے دیگر تنازعات میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے توازن کو بگاڑ دے گی۔ روس بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے ایٹمی عزائم کی طرف راغب ہو سکتا ہے۔ لیکن ایران اس معاملے کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لے گا۔

امکان ہے کہ ایران اپنے ایٹمی نظریئے کا از سرِ نو جائزہ لے، اور وہ ڈراؤنا خواب جو ہمیشہ سے امریکہ کو ستاتا رہا ہے ـ یعنی ایک ایٹمی ایران ـ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ یہ خطرہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ ایران کا دشمن اس کی شدت کا تصور بھی نہ کر سکتا۔

اگر دشمن کشیدگی کم کرکے جنگ کے دوسرے شعبوں میں منتقل کرنا چاہے تو کیا کرنا چاہئے؟

اس کے لئے تاریخ سے سبق لینا ہوگا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، فاتح ممالک آپس میں طاقت کے حصول کے لئے ایک سخت مسابقت میں مصروف ہو گئے۔ سرد جنگ کا دور اس کی واضح مثال ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بھی یہی مسابقت دوسری بڑی طاقتوں کے درمیان جاری رہی۔ اس کا مرکزی محور دو چیزیں تھیں:

- عالمی بالادستی (Hegemony) کا استحکام اور سلامتی کا استحکام: ممالک نے محسوس کیا کہ اپنی بقا اور حفاظت کے لئے انہیں طاقت کے عالمی توازن کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ مسابقت صرف فوجی شعبے تک محدود نہ تھی، بلکہ معاشی، ثقافتی اور تکنیکی میدانوں تک پھیل گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد موفق بہروزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha