17 اگست 2026 - 16:23
دوسر قسط | اسرائیل کا ایٹمی ترکِ اسلحہ، جنگ کے خاتمے کی بنیادی شرط کیوں؟

ایران کا یہ مؤقف محض ایک سیاسی چال یا سفارتی حربہ نہیں، بلکہ ایک گہرے اسٹراٹیجک تصور کا مظہر ہے۔ ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ حقیقی امن تب ہی ممکن ہے جب خطے میں طاقت کا توازن ایک منصفانہ اور پائیدار بنیاد پر استوار ہو۔ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیار اس توازن کو تباہ کرنے والا سب سے بڑا عنصر ہے، اور جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا، کوئی بھی جنگ بندی عارضی اور غیر مستحکم رہے گی۔ لہٰذا، ایران کا یہ مطالبہ کہ 'ناجائز، غاصب اور توسیع پسند اسرائیلی ریاست کا ایٹمی ترکِ اسلحہ کو مذاکرات کا نقطۂ آغاز بنایا جائے' ایک دانشمندانہ، حقیقت پسندانہ اور دوراندیشانہ موقف ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

دوسری اور آخری قسط:

اس مسابقت کا ایک فطری نتیجہ یہ نکلا کہ ہر ملک اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنے پر مجبور ہؤا تاکہ دوسروں کے حملوں سے بچ سکے۔ جب کوئی ایک ملک نیا ہتھیار بناتا، تو اس کے حریف فوراً اسی سطح کا ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح یہ مسابقت لامحدود ہو گئی جو کبھی ختم ہونے والی نہ تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ ایک نیا تصور ابھرا: "منفی توازن" کا نظریہ۔

اس کا مطلب تھا کہ ممالک بجائے اس کے کہ ہر میدان میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ لگائیں، بعض شعبوں، خاص طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں جیسے ایٹمی اسلحہ میں مسابقت نہ کرنے کا عہد کریں۔ اس مقصد کے لئے متعدد بین الاقوامی معاہدے اور کنونشنز بنائے گئے۔

لیکن یہاں ایک المیہ پیش آیا۔ طاقتور ممالک نے ان معاہدوں کو کبھی حقیقی معنوں میں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے ایٹمی ذخائر کو برقرار رکھا، اور ساتھ ہی انہی معاہدوں کو کمزور ممالک کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل، جو دنیا کے بڑے ایٹمی ذخائر کے مالک ہیں، نے دوسروں کو ایٹمی ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لئے ان معاہدوں کو ڈنڈے کی طرح استعمال کیا۔ نتیجتاً، نہ تو منفی توازن قائم ہو سکا اور نہ ہی مثبت توازن کو آگے بڑھنے دیا گیا۔ یوں دنیا ایک "یک قطبی" نظام میں داخل ہو گئی، جہاں ایک یا دو طاقتیں ہر معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

اب موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو منظرنامہ بہت واضح ہے: اگر فوجی کشیدگی میں کمی آتی ہے، تو غالباً اسی قسم کا علاقائی عمل دہرایا جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے رہبر کے فتوے کے تحت کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف قدم نہیں اٹھایا، حالانکہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس کے برعکس، صہیونی ریاست، جو ہمیشہ سے علاقائی توسیع اور دوسرے ممالک کی سرزمینوں کے غصب کی خواہاں رہی ہے، ایٹمی ہتھیار کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے اور اپنے ایٹمی پروگرام کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔ اس صورتحال میں، کیا کوئی منطقی وجہ ہے کہ ایران علاقائی فوجی توازن کو نظر انداز کر دے؟ بالکل نہیں۔

ایران کے لئے کم سے کم اور معقول ترین اقدام یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ اور اسرائیل کے ایٹمی ترکِ اسلحہ کو کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی بنیادی اور 'ناقابلِ گفت و شنید شرط' قرار دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیل اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم نہیں کرتا اور بین الاقوامی کنٹرول کے تابع نہیں ہو جاتا، کوئی بھی معاہدہ مکمل اور پائیدار نہیں ہو سکتا۔ یہ شرط نہ صرف منطقی اور قانونی ہے، بلکہ ایک ایسی حقیقت پر مبنی ہے جو علاقائی امن و سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔

نتیجہ:

ایران کا یہ مؤقف محض ایک سیاسی چال یا سفارتی حربہ نہیں، بلکہ ایک گہرے اسٹراٹیجک تصور کا مظہر ہے۔ ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ حقیقی امن تب ہی ممکن ہے جب خطے میں طاقت کا توازن ایک منصفانہ اور پائیدار بنیاد پر استوار ہو۔ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیار اس توازن کو تباہ کرنے والا سب سے بڑا عنصر ہے، اور جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا، کوئی بھی جنگ بندی عارضی اور غیر مستحکم رہے گی۔ لہٰذا، ایران کا یہ مطالبہ کہ 'ناجائز، غاصب اور توسیع پسند اسرائیلی ریاست کا ایٹمی ترکِ اسلحہ کو مذاکرات کا نقطۂ آغاز بنایا جائے' ایک دانشمندانہ، حقیقت پسندانہ اور دوراندیشانہ موقف ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد موفق بہروزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha