25 فروری 2012 - 20:30

بحرینی عوام نے جمعہ کے روز شام کے وقت بلاد القدیم سے السہلہ تک مظاہرہ کیا اور آل خلیفہ کے خلاف نعرے لگائے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق  یہ مظاہرہ "الوفاق"، "الوعد"، "الوحدوی"، "الاخاء" اور "القومی" جیسی سیاسی جماعتوں کی اپیل پر انجام پایا۔

واضح رہے کہ آل خلیفہ خاندان کی مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بحرینی عوام کی انقلابی تحریک 14 فروری 2011 کو شروع ہوئی اور اس وقت سے اب تک مظاہروں اور احتجاجی اقدامات کا سلسلہ پرامن انداز سے، بلاناغہ جاری ہے۔ بحرینی عوام ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، آزادانہ انتخابات، بیرون ملکیوں کو شہریت دے کر آبادی کا توازن بگاڑنے کی سازش کا خاتمہ چاہتے ہیں، آزاد پارلیمان اور منتخب حکومت چاہتے ہیں، ملازمتوں میں بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں کو ترجیح دینے اور مقامی لوگوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور عالمی قوانین ملک کے ہر ایک شہری کو ایک رائے دینے کا حق چاہتے ہیں، ملک میں آزاد اور خودمختار عدلیہ کا قیام چاہتے ہیں اور سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، فوجی عدالت کی فوری بندش اور آل سعود کی افواج کا انخلا چاہتے ہیں؛ لیکن امریکہ اور یورپ اپنے ہی بنائے ہوئے اس قانون کو بحرین میں، نہیں مانتے اور آل خلیفہ کی حمایت کرتے ہیں اور آل سعود کا خاندان بھی جو شام میں نام نہاد جمہوریت کے لئے اس ملک پر فوجی چڑھائی کا خواہاں ہے، بحرین میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے میں آل خلیفہ اور امریکہ و یورپ کا ہاتھ بٹا رہا ہے اور اس نے ایک ہزار فوجی بحرین میں بھیجنے کا اعلان کرکے 10 ہزار فوجی اس ملک میں داخل کردیئے ہیں اور یمن، شام، اردن، یمن، عراق اور پاکستان سے بھی ہزاروں تکفیریوں کو بھرتی کرکے بحرینی عوام کو کچلنے پر مامور کیا گیا ہے۔

ایک طرف سے آل خلیفہ و آل سعود اپنے مغربی آقاؤں کے مظالم ہیں اور دوسری طرف سے پرامن انقلاب ہے جو جبر و ستم کے ہزاروں حربوں کا سامنا کررہے ہیں لیکن پر عزم ہیں۔

.........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام