ابنا: حسین ابراہیمی نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے اب تک ایران کے تعلق سے نیک نیتی اور سچائي کا ثبوت نہیں دیا ہے بلکہ اپنی رپورٹوں میں بےبنیاد الزامات بھی لگائے ہیں۔ حسین ابراہیمی نے کہا کہ آئي اے ای اے کی رپورٹیں بھی ابہام کا شکار ہوتی ہیں اور اس کی وجہ ایجنسی کا خود مختار نہ ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئي اے ای اے کی رپورٹوں کے ا یک حصے میں ایران کی بڑھتی ہوئي ایٹمی سرگرمیوں کی بات کی جاتی ہے لیکن رپورٹ کے آخر میں ابہامات کی بات کی جاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ آئي اے ای اے مغربی ملکوں اور صہیونیون کے زیراثر ہے اور وہ خود مختار طریقے سے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش نہیں کرسکتی۔حسین ابراہیمی
انہوں نے کہا کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے کسی بھی وقت ایران کی مدد نہیں کی ہے بلکہ ایران کی راہ میں رکاوٹیں ہی کھڑی کی ہیں جبکہ بہت سے ممالک یورینیم کی افزودگي بھی کرتے ہیں اور ایٹمی انرجی سے استفادہ بھی کر رہے ہیں لیکن مغربی ممالک اپنی تنگ نظری کی بنا پر ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں بھی کوئي نیا نکتہ نہیں ہے بلکہ پرانی باتیں ہی دہرائي گئي ہیں۔ ........
/169