17 فروری 2012 - 20:30

عراق میں منافقین کے دہشتگرد گروہ ایم کے او کےگڑھ اشرف چھاؤنی کو آخرکار ربع صدی کے بعد خالی کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔

ابنا: اس چھاؤنی میں موجود چار سو عناصر کو لیبرٹی چھاؤنی میں منتقل کردیا گيا ہے۔ اشرف چھاؤنی میں ایم کے او کے تقریبا تین ہزار چار سو عناصر رہتے ہیں۔ اور ان کو اقوام متحدہ اور حکومت بغداد کے درمیان طے پاۓ جانے والے سمجھوتے کے تحت تدریجا لیبرٹی چھاؤنی میں منتقل کردیا جاۓ گا۔

گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ نے بغداد حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ منافقین کے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے عناصر کو اشرف چھاؤنی خالی کرنے کے لۓ چھ ماہ کی فرصت دے۔ اس معاہدے کے مطابق طے پایا ہے کہ اس مدت کے دوران ایم کے او کے عناصر اشرف چھاؤنی سے عارضی طور پر عراق کے اندر ہی کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجائيں گے۔ اس سلسلے میں لبیرٹی چھاؤنی کو ان کی عارضی رہائش کے لۓ مدنظر رکھا گيا ہے اس چھاؤنی کو امریکی فوجی عراق پر کے قبضے کے دوران اڈے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

اب منافقین کے عناصر کے یہاں منتقل ہونے کے بعد کسی اور ملک میں ان کے بھیجے جانے کے مراحل طے کۓ جائيں گے۔ امریکی وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائي ہے کہ وہ اشرف چھاؤنی سے ایم کے او کے عناصر کی لیبرٹی چھاؤنی منتقلی اور اس کے بعد عراق سے ان کے نکالے جانے کی حمایت کرے گی۔

منافقین کے دہشتگرد گروہ کے عناصر سنہ انیس سو چھیاسی سے عراق کے صوبۂ دیالہ میں موجود ہیں اور اس وقت سے لے کر آج تک انھوں نے عراق میں کسی بھی ظلم سے دریغ نہیں کیا۔ انیس سو اسّی اور نوے کے عشروں میں عراق کے کردوں اور شیعوں کے قتل عام میں اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر صدام کے ساتھ تعاون اور ایران پر مسلط کردہ جنگ میں شرکت عراق کی سابق حکومت کے زمانے میں اس دہشتگرد گروہ کے بعض جرائم و مظالم ہیں۔

عراق پر قبضے کے زمانے میں بھی اس دہشتگرد گروہ نے القاعدہ اور بعثیوں جیسے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مل کر اس ملک میں بدامنی پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ امریکہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جیسے بھی ہو ایران کی سرحدوں کے قریب اشرف چھاؤنی کا وجود برقرار رہے ۔ لیکن عراق سے قابضوں کی پسپائي اور عراقی راۓ عامہ کے دباؤ کی وجہ سے عراق سے منافقین کے دہشتگرد گروہ کے نکالے جانے کا راستہ ہموار ہوا۔ سنہ دو ہزار گیارہ کے وسط میں بغداد حکومت نے منافقین سے کہا تھا کہ وہ سال کے آخر تک عراقی سرزمین سے نکل جائيں۔ لیکن پھر اقوام متحدہ نے اشرف چھاؤنی سے منافقین کے لیبرٹی چھاؤنی منتقلی اور پھر وہاں سے کسی اور ملک بھیجے جانے کی بات کی۔

اور اس کام کے لۓ چھ ماہ کی مدت معین کی گئي۔ اب تقریبا ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اور طے شدہ معاہدے کے مطابق منافقین کے پہلے گروہ کی منتقلی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگر معمول کے مطابق یہ کام جاری رہا تو ساڑھے چار ماہ کے دوران عراق سے اس دہشتگرد گروہ کے سارے عناصر نکل جائيں گے۔ اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا امریکہ اس بات سے اتفاق کرے گا کہ بغداد حکومت کے خلاف سرگرم اس کے پٹھو مکمل طور پر عراق سے نکل جائيں۔ اور کیا یورپی ممالک اس دہشتگرد گروہ کے عناصر کو پناہ دینے پرتیار ہوجائيں گے؟ اور ایک سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اقوام متحدہ اس بات کو بہانہ بنا کر کہ ابھی اس گروہ کو پناہ کے لۓ کوئي جگہ نہیں ملی ہے چھ ماہ کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے؟ ان سوالات کی وجہ سے عراق سے مقررہ مدت کے اندر اندر منافقین کے دہشتگرد گروہ کے عناصر کے نکالے جانے کے بارے میں شکوک و شبہات پاۓ جاتے ہیں۔

خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ بعض سیاسی حلقوں نے بھی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ عراق میں مناقفین کے سلسلے میں جو اقدامات انجام دیۓ جارہے ہیں ان کا مقصد صرف ان کی رہائش کے مکان کی تبدیلی ہے نہ کہ ایک دہشتگرد گروہ سے عراق کے عوام اور حکومت کو نجات دلانے کی کوشش۔ ........

/169