ہر ضرب المثل کے پیچھے ایک واقعہ ہوتا ہے جو بوقت ِ ضرورت اسی واقعے یا بات سے مماثل ہونے باعث استعمال میں آجاتا ہے۔ ضرب المثل کی سب سے بڑی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ چند الفاظ ادا کرکے ہم تمام کیفیت کو مختصرا” بیان کر ڈالتے ہیں۔ ہماری زبان اردو کو بھی ایسے ہی بیشمار ضرب الامثال کو اپنا حصہ رکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ مثلا” کسی مشکل میں اپنی نادانی سے خود کو پھنسا لینا، "آ بیل مجھے مار" کہلاتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں دور کہیں بجتا ہوا ڈھول کانوں کو بہت بھلا محسوس ہوتا ہے اور جب یہی ڈھول اپنے کان پر بج رہا ہو تو پردے پھاڑنے پر اتر آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ "دور کے ڈھول سہانے"۔ اسی لیئے کسی کو پردیس کی مشکلات کا اشارہ دینا ہو تو اس ضرب المثل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔ایک بہت مشہور ضرب المثل ہے کہ "ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔" اس کا بہت بین اور واضح مفہوم ہے کہ ہر چیز دراصل وہ نہیں ہوتی، جو وہ نظر آرہی ہوتی ہے۔ اصلا” وہ اپنی حقیقت سے بہت دور، بلکہ برعکس تک ہوسکتی ہے۔ یہی ضرب المثل مجھے آجکل ہر چیز مثلا” اپنی معاشرت، سیاست، معیشت، تعلیم، اخلاق، حتّٰی کہ مذہب تک پر صادق نظر آرہی ہے۔ باقی شعبوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے میں صرف اس شعبے کے متعلق چند حقائق کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو انسان کے انسان ہونے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، یعنی مذہب۔ میں نے مذہب سے متعلق چند گوشوں کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا تو اخذ کیا کہ
زمین پر ٹکی ہر پیشانی، "محوِ سجدہ" نہیں ہوتی۔انگلیوں پر مچلتی ہر مالا، "تسبیح" نہیں ہوتی۔ہر بھوکا پیاسا، "روزہ دار" نہیں ہوتا۔ سینے پر پڑنے والا ہر ہاتھ، "ماتم" نہیں ہوتا۔ہر سینہ کوبی کرنے والا، "ماتمی" نہیں ہوتا۔بازو پر بندھی ہر پٹی، "امام ضامن" نہیں ہوتی۔چھت پر نصب ہر پرچم، "علم ِ عباس" نہیں ہوتا۔ہر زینہ دار مسند، "منبر" نہیں ہوتی۔شانے پر دھری ہر چادر، "عبا" نہیں ہوتی۔سر پر بندھی ہر دستار، "عمامہ" نہیں ہوتی۔عبا و قبا میں ملبوس ہر شخص، "عالم" نہیں ہوتا۔ٹوپی و شیروانی پہننے والا ہر آدمی، "مفکر" نہیں ہوتا۔کثیر افراد کی ہر جمعیت، "مجلس" نہیں ہوتی۔محو ِ گریہ ہر فرد، "عزادار" نہیں ہوتا۔تقسیم ہونے والا ہر ماکول، "نیازِ حسین" نہیں ہوتا اور ان تمام افعال اور اشیاء سے متعلق ہر شخص، "شیعۂ علی" نہیں ہوتا۔
تلخ بہت، مگر یہی حقیقت ہے۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ رکھنے والا ہی دراصل انسانیت کے منصب کا حقدار ہوتا ہے، وگرنہ ہر دوپایہ انسان نہیں ہوتا۔خدا ہمیں ہمارے حسین مذہب کے حسن اور رعنائیوں سے اپنی ذوات کی حقیقی تزئین و آرائش کا سلیقہ سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ خدا ہمیں وہ اسلوب ِ اطاعت ِ امام نصیب فرمائے کہ ہمارا وجود غازی ابولفضل العباس (ع) قبول فرما لیں۔ ہمیں شہادت کا وہ جذبہءقاسمی عطا ہو کہ موت ہمارے لئے شہد کا گھونٹ بن جائے۔ ہمارے ماتم میں وہ دبدبہءثقفی آجائے کہ دشمن پر لرزہ طاری ہوجائے۔ ہمارے جلوسوں کو وہ وقار اور ہیبت نصیب ہو کہ باطل کی سانسیں اکھڑ جائیں۔ ہماری مجالس کو وہ رفعت عطا ہو کہ سیدہ زہرا (ع) انکو رونق افروز فرمائیں۔ یا خدا! ہماری نماز میں وہ خشیعت بھر دے کہ علی و حسین (ع) پکار اٹھیں کہ یہ ہماری سنت کے جلا گر ہیں۔ ہمیں اپنے دین پر عمل پیرا ہونے اور اسکی تبلیغ کا وہ ڈھنگ سکھلا دے کہ رسول ِ خدا (ص) گواہی دیں کہ یہی میرے اہل ِ سنت ہیں اور ہمیں اپنے خلفاء کا ایسا مطیع بنا کر اپنے پاس بلا لے کہ ہم بھی سورۃ الفجر کی آیات ِ آخر کے مصداق ہو جائیں۔ آمین یا رب العلمین بحق محمد وآلہ الطاہرین۔بشکریہ از برادر قمر رضویحافظ شیراز ایک عارف مسلک غزل گو شاعر ہیں اور فارسی غزل میں نہ کوئی گذرا اور نہ حال حاضر میں کوئی پایا جاتا ہے جو حافظ کی برابری کا دعوی کرے۔ انھوں نے قمر رضوی کی بات ساتویں صدی ہجری میں حافظ شیراز نے بھی کچھ ایسا ہی مفہوم اپنی ایک غزل میں بیان کیا ہے؛ کہتے ہیں:
نہ ہر کہ چہرہ بر افروخت دلبری داند
نه هر که چهره برافروخت دلبری داندنه هر که آینه سازد سکندری داندنه هر که طرف کله کج نهاد و تند نشستکلاه داری و آیین سروری داندتو بندگی چو گدایان به شرط مزد مکنکه دوست خود روش بنده پروری داندغلام همت آن رند عافیت سوزمِکه در گداصفتی کیمیاگری داندوفا و عهد نکو باشد ار بیاموزیِوگرنه هر که تو بینی ستمگری داندبباختم دل دیوانه و ندانستمِکه آدمی بچهای شیوه پری داندهزار نکته باریکتر ز مو این جاستِنه هر که سر بتراشد قلندری داندمدار نقطه بینش ز خال توست مراِکه قدر گوهر یک دانه جوهری داندبه قد و چهره هر آن کس که شاه خوبان شدِجهان بگیرد اگر دادگستری داندز شعر دلکش حافظ کسی بود آگاهِکه لطف طبع و سخن گفتن دری داند
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110