ابنا: ہندوستان کے اخبار اکانومک ٹائمزنے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے تیل کے بائیکاٹ میں ہندوستان کی شمولیت کیلۓ یورپ و امریکہ کے دباؤ کے باوجود نئی دہلی کے اس اعلان نے واشنگٹن کے حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں کہ ہندوستان ایران سے تیل کی خریداری کا عمل جاری رکھے گا۔
تیل درآمد کرنے والے دنیا کے چوتھے بڑے ملک کی حیثیت سے ہندوستان کی آئل ریفائنریاں ایران سے خریدے جانے والے تیل کی بدولت ہی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوۓ ہیں اور ایران کے تیل کے بائیکاٹ میں ہندوستان کی شمولیت اس ملک کیلۓ ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنے گی۔
ابھرتی ہوئی نئی اقتصادی طاقت کی حیثیت سے ہندوستان کی تیل سے وابستگی کے پیش نظر اس ملک کے حکام نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری کے عمل سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔ہندوستان کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اپنے حالیہ دورۂ شیکاگو میں صراحت کے ساتھہ اعلان کیا ہے کہ انکا ملک ایران سے تیل کی درآمدات منقطع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ہندوستان تیل کی اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ ایران سے ہی درآمد کرتا ہے اور ایران بھی اس ملک کو تیل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔
سری لنکا کے صدر مہیند راجا پاکسے نے بھی ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو اپنے ملک کیلۓ جو اپنی ضرورت کا سارا تیل بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے باعث نقصان قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ سری لنکا کی آئل ریفائنری ایران کے تیل کے مطابق بنی ہوئی ہے اور ایران سے تیل کی درآمدات میں رخنہ اندازی انکے ملک کے دو کروڑ عوام کیلۓ نقصان کا باعث بنے گی۔
قابل ذکر ہے کہ سری لنکا اپنی ضرورت کا 93 فیصد تیل ایران سے درآمد کرتا ہے۔امریکہ نے 31/دسمبر 2011 کو ایران کے خلاف اپنی نئی غیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا اور یورپی یونین کے وزراۓ خارجہ نے بھی بروسیلز میں اپنے حالیہ اجلاس میں نئی اقتصادی و تجارتی پابندیان منجملہ آئندہ جولائی سے ایران سے تیل کی درآمدات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔البتہ بیشتر سیاسی مبصرین نے ایران کے تیل کے خریدار ملکوں کی تعداد زیادہ ہونے کے پیش نظر یورپی یونین کے اس فیصلے کو ناقابل عملدرآمد قرار دیا ہے اسلۓ کہ تیل سے وابستہ ابھرتی ہوئی نئی اقتصادی طاقتوں کیلۓ تیل کی درآمدات کا عمل منقطع کرنا ناممکن ہے۔
جیساکہ ایک بڑے اقتصادی مرکز کی حیثیت سے چین بھی ایران کے تیل کا ایک اہم خریدار ملک ہے یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو نادرست قرار دیا ہے۔ ایران کے تیل کے بائیکاٹ کا خود یورپی ملکوں کی جانب سے بھی خیرمقدم نہیں کیا گیا سردی کے موسم اور توانائی منجملہ ایران کے تیل اور گیس سے متعلق مغربی ملکوں کی ضروریات اور اسیطرح بعض مغربی ملکوں منجملہ یونان اور اٹلی کی آئل ریفائنریوں کا ایران کے تیل کے مطابق ہونا اس بات کا باعث بنا ہے کہ یہ ممالک بآسانی ایران کے تیل کا بائیکاٹ نہیں کرسکتے۔
دریں اثنا ایران کے وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ مغربی ممالک ایران سے گیس خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں اور سترہ مغربی ملکوں نے ایران سے پٹروکیمیکل پیداوار کی خریداری کیلۓ ایران کے خلاف پابندیوں کو نظرانداز کردیا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ آئندہ مہینے تک ایران سے دو ارب ڈالر مالیت کی پٹروکیمیکل پیداوار یورپ برآمد کردی جائیگی۔
اس رو سے جیساکہ پہلے ہی سے پیشگوئی بھی کی جارہی تھی امریکہ اور خاص طور سے مغرب کی جانب سے جو بدحال معیشت سے دوچار ہے ایران کے تیل کے بائیکاٹ کا اعلان مغربی سیاسی حلقوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ کیلۓ ایران مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے سے بڑھکر اور کچھہ نہیں ہوسکتا جیساکہ ہندوستان کے اخبار اکانومک ٹائمزنے ایران کے خلاف پابندیوں کے غیر موثر ہونے کو واشنگٹن کے حکام کیلۓ مایوسی اورپریشانی کا موجب قرار دیا ہے. ........
/169