10 فروری 2012 - 20:30

مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کی سرنگونی کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے اور کل اس ملک کے مختلف شہروں میں لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر جلوس نکالے۔ مصر میں یہ جلوس سول نافرمانی کے دن کے موقع پر نکالے گۓ تھے۔

ابنا: مصر کی دسیوں سیاسی جماعتوں نے سول نافرمانی کے جلوسوں میں عوام سے شرکت کی اپیل کرتے ہوۓ فوجیوں کے اقتدار سے برطرف ہونے کا مطالبہ کیا۔ مصر میں ڈکٹیٹر کی سرنگونی کے بعد کے ایک سال میں اگرچہ اس ملک میں نیا ماحول قائم ہوا ہے لیکن ابھی تک انقلاب کے اہم ترین مقاصد حاصل نہیں ہوۓ ہیں۔ اور مصر کے عوام اسی وجہ سے تشویش میں مبتلاء ہیں۔

مصرکے عوام کو اس بات کا اندیشہ لاحق ہے کہ بعض طاقتیں ان کے عظیم انقلاب کو اس کے راستے سے ہٹانے کے لۓ کوشاں ہیں۔ مصر میں ابھی تک اقتدار چونکہ حسنی مبارک کے مقرر کردہ فوجی افسروں کے پاس ہے اس لۓ اس ملک کے عوام ان کو خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ مصرکی مسلح افواج کی کونسل کے اراکین اقتدار سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

جس کی وجہ سے اس ملک کے لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں کے دوران مصری عوام نے بارہا فوجیوں کے اقتدار کے خلاف احتجاجی مظاہرے کۓ۔ مصر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اقتدار جلد از جلد منتخب عوامی حکومت کو سونپا جاۓ۔ اس ملک کے دانشوروں ، مفکرین اور سیاسی و انقلابی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس ملک میں پارلیمنٹ کے ہوتے ہوۓ فوجیوں کی حکومت کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔ اور جلد از جلد قومی حکومت تشکیل پانی چاہۓ۔ مصر کی عبوری فوجی کونسل کی جانب سے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لینے کی وجہ سے اس کونسل پر عوام کا اعتماد مسلسل کم ہوتا جارہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر کی اعلی عبوری کونسل نے گزشتہ ایک سال کے دوران سابقہ حکومت کے عہدیداروں کو کیفرکردار تک بھی نہیں پہنچایا ہے۔ مصر کے انقلاب کا ایک اہم مقصد مبارک ، اس کے بیٹوں اور ان اقرباء کو کیفر کردار تک پہنچاۓ جانے سے عبارت ہے جنھوں نے تیس سال کے عرصے میں اس ملک کو بدترین اقتصادی اور سماجی صورتحال سے دوچار کر رکھا تھا۔ لیکن ابھی تک ان کو کیفر کردار تک پہنچاۓ جانے پر مبنی مصری عوام کا مطالبہ بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اور اب یہ اندیشہ پایا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مصر کا انقلاب اقتدار کے خواہاں اس ملک کے جرنیلوں اور بعض مفاد پرست غیر ملکی طاقتوں کے جوڑ توڑ کی بھینٹ چڑھ جاۓ۔ مصر کے عوام مسلح افواج کی اعلی عبوری کونسل کو سابقہ حکومت کا ہی حصہ جانتے ہیں اس لۓ وہ اس کونسل کے اقتدار سے الگ ہونے کے خواہاں ہیں۔ ........

/169