26 جنوری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کی جانب سے ایٹمی مذاکرات جاری رکھنے پر ایران کی آمادگي کے اعلان کےبعد جرمن پارلیمنٹ کے ایک رکن رائنر اشتینر نے جمعرات کی رات کہا کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کے معائنہ کار جمعہ کی صبح تہران کے لئے روانہ ہوجائيں گے۔

ابنا: جرمن پارلیمنٹ کے رکن نے کہا کہ آئي اے ای اے کے معائنہ کار اسلامی جمہوریۂ ایران کے حکام سے مذاکرات اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے تہران کا یہ دورہ کررہے ہیں۔

جرمنی کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور پارلیمنٹ کے رکن رائنر اشتینر نے گذشتہ ہفتے جرمن پارلیمانی اراکین سے آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر یوکیا آمانو کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ آمانونے اس ملاقات میں کہا تھا کہ آئي اے ای اے کے معائنہ کار عنقریب تہران جائيں گے۔

اس سے قبل سفارتی ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ آئي اے ای اے کا ایک اعلی سطحی وفد ایران کے ایٹمی مراکز کے معائنے اور جس چیز کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے لاحق تشویش کہا جارہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے تہران کا دورہ کرے گا اوریہ دورہ جنوری کی آخری تاریخوں میں انجام پائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹراحمدی نژاد نے جمعرات کی رات جنوبی صوبے کرمان میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ ایران گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں گفتگو کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغرب کا یہ الزام کہ ایران ایٹمی مذاکرات سے بچ رہا ہے ملت ایران پر روزافزوں دباؤ بڑھانے کے اقدامات کا جواز پیش کرنے کا بہانہ ہے۔

صدر احمدی نژاد نے کہا کہ تہران ماضی کی طرح اپنی قوم کے مفادات کا تحفظ کرتےہوئے ایٹمی پروگرام کے بارے میں گفتگو کرنے کو تیار ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ايک کے مابین مذاکرات کا آخری دور سنہ دوہزار گيا رہ کے آغاز میں ترکی میں ہوا تھا۔

اسلامی جمہوریۂ ایران نے گروپ پانچ جمع ایک کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہےکہ اس کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کا حامل ہوچکا ہے اور کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طرح سے پرامن ہے۔

صدر جناب احمدی نژاد نے کرمان میں کہا کہ مغربی ملکوں کی جانب سے ملت ایران کے ایٹمی پروگرام کو بند کروانے کی غرض سے دباؤ سے انہیں کوئي فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ملت ایران کا عزم و ارادہ مزید مستحکم ہوتا جائے گا۔

یورپی یونین نے نئي پابندیوں کے تحت ایران کے تیل کا بائيکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تہران پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ادھر اسلامی جمہوریۂ ایران کی پارلیمنٹ نے یورپی پابندیوں کاجواب دیتےہوئے اعلان کیا ہے کہ ایک پیشگي اقدام کےتحت یورپ کو تیل فروخت نہ کرنےکے بل کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسلامی جمہوریۂ ایران نے یورپی یونین کی جانب سے تیل کے بائيکاٹ کو نہایت کم اہمیت قراردیتےہوئے کہا ہےکہ جب یورپ کے ساتھ ایران کے لین دین کی شرح نوے فیصد تھی تو مغرب کی پابندیوں کا کوئي خاص اثر نہیں ہوا تھا تو اب جبکہ ایران اور یورپ کے مابین تجارت کی شرح دس فیصد تک پہنچ چکی ہے تو ایران کو یورپ کی پابندیوں سے کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے؟ یورپی یونین ایران سے روزانہ چھ لاکھ بیرل تیل خریدتی ہے جو ایران کی تیل کی کل برآمد کا اٹھارہ فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی تیل کی مارکیٹ خاص طور سے ایشیائي ملکوں کو اس کےتیل کی برآمد جاری ہے اور اس میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔
.........

/169