کرسچن مشینری کا حقیقی چہرہ
جابروں سے بھی مراسم اور مفلوک الحال افراد سے بھی ہمدردی!
بظاہر دنیا میں مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے اکثریت کے اعتبار سے سر فہرست ہیں باوجود اس کے اہل کلیسا اپنے مذہب کی بساط چرچ سے باہر بچھانے سے معذور دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ باہر کا ماحول ہی وقتاً فوقتاً کلیسا کی اندرونی فضا پر اثر انداز ہوا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ اثر انداز ہونے کے بجائے عیسائی مذہب طویل مدت سے اثر پذیری کے عمل سے گزررہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مذہب اپنے ماخذ و منابع سے دور ہوتا چلا گیا۔ اور اس کے مبلغوں نے مذہب کے بنیادی اصولوں اور قوانین کو بھی ذاتی منفعت اور پیٹ کی پوجا کی خاطر داو پر لگادیا۔ نتیجتاًآج ہر کلیسا اصل میں عیسائیت کا قبرستان ہے۔ عیسائیت کا جنازہ نکالنے کا سہرا عیسائی مذہب کی روحانی پیشوائی کے دعوےداروں کے سر جاتا ہے۔ چنانچہ یہی پوپ ازم تھا جو ایک زمانے میں سائنسی علوم کے جدید انکشافات کا متحمل نہ ہو سکا اور اسی کی آنکھ میں ان انکشافات کے موجب مقتدر سائنس دانوں کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا اہل کلیسا نے علمی اورتکنیکی راہ پر کلیسا کو سنگ راہ بنا کر ڈال دیا اور اس راہ پر گامزن جدید علوم کے متوالوں کو کافی ڈرایا دھمکایا حتیٰ کہ جب وہ ان کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہوئے تو ان کے خلاف موت کے فتوے بھی صادر ہوئے۔ اس سلسلے میں گلیللیو کا نام بطور ثبوت لیا جا سکتا ہے جن کی علمی بنیادوں پر حقیقت گوئی پادریوں کواس قدرگراں گزری کہ وہ ا ہل کلیسا کے عتاب کا شکار ہوئے۔باوجود اسکے سائنسی انقلاب اور معاشرتی اقدار کی شکست و ریخت کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔بالآخرنشا ةثانیہ کے دور میں اہل کلیسا کی ضد و ہٹ دھرمی صنعتی ،سیاسی،اور سائنسی انقلاب کے سامنے ٹک نہ سکی۔۔کلیسا کی غیر لچکدار پالیسی سے اسی کے مخالف عناصر کو ہی نئی قوت واستقلال مل گیا اہل علم و دانش تو پہلے سے ہی اس کے خلاف مورچہ زن ہونے کی تاک میں تھے خود پادریوںمیں سے چند ایک پادری اس کی رجعت پسندی سے متنفر ہو رہے تھے ان بغاوت آمادہ پادریوں میں سے مارٹن لوتھرنامی ایک پادری نے کھلم کھلا علم بغاوت بلند کیا اور ایک نئے عیسائی مکتب کی بنیاد ڈالی جو بعد اذاں پروٹسٹنٹ کے نام سے موسوم ہوا۔ ۔ انجیل میں غیر ضروری تحریفات اور پادریوں کی دیگر حماقتوںنے ہی سہی کثر کو بھی پورا کردیا۔ نتیجتا مسحیت نہ صرف اپنی ڈگر سے ہٹتی گئی بلکہ تہذیب غرب کی غیر اخلاقی اور ایمان سوز ریلے میں بہتی چلی گئی جس کو آج تک حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات پر استوار”ساحل نجات “نصیب نہ ہو سکا ۔ اس مذہب میں بہت ساری خامیاں دھر آئی ہیں اور اب یہ مذہب اس روحانی پیاس کو بحھانے سے رہ گیا ہے جو فطری طور پر ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مبلغین چند ایک غیر فطری اور غیر اخلاقی ذرائع تبلیغ استعمال کررہے ہیں۔ فی زمانہ جدید مسائل اور پیدا شدہ نئے مغالطوں کا حل اس جمود زدہ اور یک رخے مذہب کے پا س نہیں ہے۔ اس زائید المیعاد دوا سے انسانیت کے تازہ زخموں کا مرہم ممکن نہیں ہے۔ ذہنی، قلبی، روحانی اور اخلاقی بیماریوں کا مداوا کیوں کرہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ذہن میں جو تشکیک، مذہب اورالوہیت کے بارے میں پائی جاتی ہے اس کی تشفی کے بجائے عیسائی مشینری نے بھوکے پیٹ اور دیگر معاشی ضروریات کو ہی اپنی دعوت کا محرک قرار دیا ہے۔ اس کی کامیابی غربت و افلاس اورابتلا و مصیبت پر منحصر ہے۔ ایک فارغ البال اور ذہنی صلاحیتوں سے بھر پور فرد کو مطمئن کرنا مسیحیت کے بس کی بات نہیں ہے۔ لہِذا خالی پیٹ اور مصیبت زدہ شخص کے مادی تقاضے پورا کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مشینری کی توجہ کے مرکز عموماًدنیا کے جنگ زدہ اور غربت کے مارے وہ علاقے ہیں۔ جہاں لوگوں کی اکثریت ایک لقمہ ترکے عوض اپنے پورے وجود کو کسی کے بھی حوالے کرنے پر ہمہ وقت آمادہ رہتی ہے۔ سادہ لوح اور سطحی نظر کے حامل افراد عیسای مشینری کے اس کام اور طریقہ کار کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں انہیں شاید معلوم نہیں کہ انکی یہ کارگزاری خلوص پر مبنی نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ واقعاً انسانیت کے ہمدرد اور مصیبت زدہ لوگوں کے مسیحا ہوتے تو یہ ہرگز طاغوت کی ظلم و زیادتی پر تجاہل عارفانہ سے کام نہیں لیتے۔ امریکہ نے جو بربریت کے تمام سابقہ ریکاڑ مات کئے ہیں۔ ایک لحاظ سے وہاں کا چرچ لاکھ جتن کے باوجود اس سے بھی لاتعلقی کا اظہار نہیں کرسکتا ہے۔ انسانی خون کے کاروبار میں پادری بھی اپنے حکمرانوں کے ساتھ شراکت رکھتے ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے جب گیارہ ستمبر کے بہانے سے افغانستان اور عراق کو تختہ مشق بنانے کا منصوبہ بنایا تو اس نے ایک اور صلیبی جنگ کا ڈھنکا بجا دیا ۔ بش کے متعلق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس پر چرچ والوں کا کافی اثر تھا۔ اور چرچ کے یہاں اس کا آنا جانا اس کی عیسائیت کے ساتھ وابستگی کی کھلی دلیل ہے۔ ظاہر ہے کہ چرچ کے پادریوں کے ساتھ بھی اس کے نزدیکی تعلقات رہے ہوں گے۔ جب یہی امریکی حکمران مسیحی پادریوں سے آشرواد لے کر افغانستان اور عراق میں خون کی ہولی کھیلنے نکلا تو انسانیت کے تئیں انکی رگ ہمدردی کیوں نہیں پھڑکی؟ کیا انہوں نے بش کو جنگی جنوں سے روکنے کیلئے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا؟ کیا انہوں نے اپنے حکمرانوں کی عالم انسانیت بالخصوص عالم اسلام کے ساتھ روا رکھی گئی جارحیت سے کم از کم اظہار برات کیا؟ یہ سوال اب بھی ایک حقیقت کا برملا اظہار ہے کہ صلیبی جنگ کا ڈھنکا بجانے والے بش کو عیسائی مذہب کے ان ذمہ داروں نے کیوں یہ بات باور نہیں کرائی کہ یہ مذہب سے اس پیغمبر عالی قدر سے منسوب ہے جو جانوروں کو ابتلا میں دیکھ کر رنجیدہ خاطر ہوجایا کرتے تھے اور تھکے ماندے بکری کے بچے کو سہلایا کرتے تھے۔ اگر عیسائی مشینری واقعا ًافلاس زدہ، زخم خوردہ اور جنگ و شورش سے متاثرہ انسانوں کے حوالے سے فکر مند ہوتی تو وہ علاج کے بجائے پرہیز کے نسخے پر کاربند ہوتی۔ عراق و افغانستان میں پہلے ان ہی کے حکمرانوں اور فوجیوں نے انسانیت کو لہولہان کیا اور اب عیسائی مشینری اس طاق میں بیٹھی ہے کہ موقع ملتے ہی ان دو ممالک میں اپنا مشن لے کر براجمان ہوجائے۔ تاکہ وہاں کے قہرزدہ باشندوں کی بھوک مٹاکر ان کے قلب و ذہن کو بھی خریدا جائے۔ گویا طاغوتی عناصر مغلوب ملک کے مادی ذرائع پر قبضہ کرکے اس میں زندگی گزارنے والے ہزاروں انسانوں کو محتاج بنادیتے ہیں اور پھر اسی احتیاج کی تکمیل سے عیسائی مشینری ان کے دلوں کو خریدنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی ہے کہ مشنری اورعالمی طاغوت کے مابین کسی منصوبہ بند پروگرام کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ لیکن فی الحقیقت طاغوت اور مشنری کے درمیان اشتراک عمل ضرور پایا جاتا ہے۔ امریکی قیادت میں جارح ممالک نے جو بربادی کمزور اقوام کو تحفے میں دے رکھی ہے۔ وہ عیسائی مشنری کے "مشن آبادی" کی تمہید ہے۔اس گورکھ دھندے کا نمایاں اور تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایک جانب دنیائے مسحیت کے فرواں روا قدرتی ذخائر سے مالا مال مسلم ممالک کو طاقت کی بنیاد پر لوٹتے ہیں اسی لوٹی ہوئی دولت میں سے ایک حصہ بالواسطہ طور چرچ کے خزانے میں آ جاتا ہے اور پھر اسی میں سے ایک رقم مسلمانوں کی تبدیلی ¿ مذہب پر صرف ہوتی ہے۔ عیسائی مشنری کی مشکوک نوعیت یوں بھی سامنے آجاتی ہے کہ مسلم عقیدت و جذبات کے مسیحی غارت گر و قتاً فوقتاً مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرتے آئے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جسمانی تکلیف سے زیادہ روحانی آزارتکلیف دہ ہوا کرتا ہے؟ انسانیت کے بہ بے لاگ خدمات گزار (بزعم خود)انسانی جذبات کو مجروح کرنا بچوں کا کھیل کیوں سمجھتے ہیں؟ پیغمبر اکرم کے تعلق سے عیسائی پادریوں کی ہرزہ سرائی مسیحی قلم کار، کارٹونسٹ اور اخبار نویس کے متعصبانہ حرکتوں کا بڑا محرک ہے۔ اگر عیسائی مذہب کے پیشوا مذہبی رواداری کے پیش نظر دیگر مذاہب سے وابستہ مقدسات کی توہین کے مرکتب نہ ہوتے تو مسیحی دنیا کے غیر مذہبی شخصیات دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے جذبات مجروح کرنے سے قبل ہزار بار سوچتے کہ ایسا کرنے سے انہیں اپنے مذہبی پیشواووں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا ہو گا ۔ بعض اوقات قرآن سوزی جیسا غیر انسانی فعل اسی چرچ کے ہاتھوں براہ راست انجام پایا ۔غور طلب بات یہ ہے کہ جب چند پنتیس ارکان پر مشتمل ایک چرچ نے چند سال قبل قرآن سوزی کی مذموم حرکت انجام دی تو اس وقت دنیائے مسیحیت خواب خرگوش کے مزے کیو ں لوٹتی رہی۔ ایک پادری نے قرآن جیسی مقدس کتاب کو جلانے کا اعلان کیا اور دنیائے مسیحیت خاموش تماشائی بنی رہی۔ سینکڑوں پادریوں کو جیسے سانپ سونگھ گیاتھا۔ کیا انکی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری نے انہیں فاترالعقل پادری کے خلاف سراپا احتجاج ہونے پر نہیں ابھارا؟ بڑے بڑے پوپوں کی زبانیں گنگ کیوں ہوگئی تھیں؟ کیوں پورے تالاب کو بچانے کیلئے ایک گندھی مچھلی کو نکال باہر نہیں کیا گیا؟مسلم دنیامیں کسی دوسرے مذہب کے مقدس صحیفہ کی بے حرمتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالفرض محال اس طرح کی قبیح حرکت کسی سازشی عنصر کے ہاتھوں انجام پاجائے تو علمائے اسلام اس کے خلاف صف آرا ہو نے میں پس و پیش سے کام نہیں لے سکتے۔ یہی وجہ ہے یہاں مذہبی تقدس پامال نہیں ہوتا۔ جذبات مجروح نہیں ہوتے۔ مذہبی شخصیات پر کیچڑ نہیں اچھالا جاتا۔ قرآن مقدس نے حضرت عیسی اور باقی اولوالعزم پیغمبروں کی تکریم کا اہتمام کیا ہے۔ خود کو مسیح کے پیرو جتلانے والے اگر واقعاً انسانیت کے تئیں اس قدر فکر مند ہیں تو انہیں پہلے ان کے اکثریتی ممالک میں اس طرح کے انسانیت سوز حرکات کا سدباب کرنا ہوگا ۔ اور پھر انسانیت کی خدمت دیگر خطوں اور علاقوں میں ممکن ہے۔ عیسائی مشینری کیلئے روز دو پلٹ، ریگن، جارج بش اور بارک حسین اوبامہ جیسی ذہنیت اور سوچ و اپروچ رکھنے والے حکمران ایک بڑا چلینج ہیں۔کیونکہ ظالم کے خلاف فکری سطح پر صف آرا ہونا مظلوم و مقہور کے حق میں مشنری کی سب سے بڑی امداد ہوگی۔ یقینا افریقہ کے غریب ترین خطوں کے بھوکے ننگوں سے زیادہ یورپ کے وہ حکمران حضرت عیسیٰ (ع) کے پیغام امن کے محتاج ہیں جو طاقت کے نشے میں چور توسیع پسندی کی راہ پر گامزن ہیں جو طاقت کا رعب و دبدبہ جمانے کی خاطر لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیتے۔ جو پیسہ مفلوک الحال ایشیائی افراد پر خرچ ہوتا ہے۔ وہ سلمان رشدی، جرح فال ول، ٹیری جونز اور دیگر ذہنی مرض میں مبتلا پادریوں اور نام نہاد صاحب دانش افراد پر صرف ہونا چاہیئے۔ قبل اسکے مشنری دنیا بھر کے ضرورتمند لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے نکلے اسے اپنے پادریوں کی خبر گیری کرنا ہوگی۔ جو عالمی سطح پر فتنہ و فساد کو ہوا دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ چنانچہ کہا جاتا ہے۔Charity begins at home.
Email--- fidahussain007@gmail.comcell no 8803437036