8 جنوری 2012 - 20:30

وہ تاریخ کے نامور بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔اتنا بڑا بادشاہ کہ اپنے آپ کواعلیٰ الاعلان بادشاہ کہتا اور اپنے نام کے ساتھ بادشاہ لکھتا تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ دنیائے سیاست میں اس کے نام کا سکّہ چلتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ۔۔۔

جدا ہو دین سیاست سے

نذر حافی

http://nazaryaat.blogfa.com 

وہ تاریخ کے نامور بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔اتنا بڑا بادشاہ کہ اپنے آپ کواعلیٰ الاعلان بادشاہ  کہتا اور اپنے نام کے ساتھ بادشاہ لکھتا تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ دنیائے سیاست میں اس کے نام کا سکّہ چلتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ کےتمام منصوبے اس کے تعاون اور مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا تھا کہ وہ اور امریکہ و یورپ کا اہم اتحادی ہے، وہ ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے ملک کو مسلسل مغرب کے سانچے میں ڈھالتا  جارہا تھا۔اس نے دینی طالبعلموں کو اچھوت  اور دینی مدارس کو پسماندگی کے مراکز قرار دے دیا تھا،وہ مذہبی حلقوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے زبان سے دین کی سر بلندی کی باتیں کرتا تھا اور عملاً  امریکہ و یورپ کا مطیع تھا۔اس نے انگریزوں کی خوشنودی اور رضا مندی کے لیے اپنی قومی عزت اور ملکی وقار کو بڑے خوبصورت انداز    میں نیلام کر دیا تھا۔وہ دین کی باتوں سے صرف زبانی چسکا لیتا تھا  اور پردے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ گردانتا تھا۔اس نے بے پردگی  اور بے حجابی کی تبلیغ کا آغاز اپنے ہی گھر سے کیا۔۱۹۲۸ءکے شروع  میں پہلی بار اس کی بیوی اور بیٹی مجمع عام میں بے حجاب آئیں۔اس نے ترکی کا دورہ کرنے کے بعد ۱۹۳۴ء میں کشف حجاب یعنی بے پردگی کا قانون بنایاجو ۱۹۳۵ء میں عملی طور پر نافذ ہوا۔۱۹۲۸ء سے لیکر ۱۹۳۵ء تک وہ اپنی  ہی ملکی ،قومی اور اسلامی حدود و روایات کے خلاف ترقی  اور خوشحالی کے نام پر سرد جنگ لڑتا رہا۔۷ عوام الناس کو"بے پردگی"سے مرعوب کرنے کے لئے جنوری ۱۹۳۵ء میں ایک یونیورسٹی کے افتتاحی پروگرام میں  اس بادشاہ کی بیوی اور  دوبیٹیاں  اور اس کے وزراء و مشراء کی بیویاں اور بیٹیاں  سب بے پردگی کے عالم میں شریک ہوئیں۔اسی روز اس جشن  میں خطاب کرتے ہوئے اس بادشاہ نے اعلان کیا کہ:آج ہم نے زندان کی تمام سلاخوں کو توڑ دیا ہے۔اب قفس میں رہنے والے قیدی آزاد ہیں اور اُنھیں اختیار ہے کہ وہ اپنے لیے قفس کی جگہ حسین وخوبصورت گھر بنائیں۔ یہ بادشاہ رضا شاہ پہلوی تھا۔جی ہاں وہی رضا شاہ پہلوی جو اغیار کے ہر حکم کو فرمانبردار بیٹے کی طرح بجا لاتا تھا۔جس نے اپنی عزّت اور خودمختاری کو امریکہ و یورپ کے اشاروں پر قربان کر دیا تھا۔جو امریکہ کی آنکھوں کا تارا ،برطانیہ کا چہیتااور ترکی کالاڈلاتھا۔اسے گھمنڈ تھا کہ امریکہ و یورپ کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات  ہیں۔اسے گمان تھا کہ وہ روز بروز مضبوط ہوتا جارہا ہے۔اسے یقین تھا کہ اس کے روشن خیالی اور ترقی کے نعروں کے خلاف زبان کھولنے والے غیر مہذب،جاہل اور پسماندہ لوگ ہیں۔لیکن وقت آنے پر ثابت ہوا کہ اس نے اپنے گرد امریکہ اور یورپ کے وعدوں کی جو فصیلیں کھڑی  کی ہوئی تھیں وہ ریت کی دیواریں تھیں اور وہ جنہیں اچھوت ،پسماندہ اور جاہل سمجھتا تھا حقیقت میں وہی لوگ ملّت کا دماغ ،دین کی آبرو اور وطن کے محافظ تھے۔آج نہ صرف ایرانی قوم بلکہ دنیا بھر کی غیور اقوام علماء ایران کو سلام پیش کرتی  ہیں۔جبکہ شہنشاہ ایران کی شخصیّت  حرف غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔مغرب کی وہی خرافات جنہیں شہنشاہ  ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری سمجھتا  تھا شہنشاہیّت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئیں اور شہنشاہ کے بلند وبانگ دعوے اور نعرے ہی اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ ہمارے سیاستدان بھی جب روشن خیالی اور مغرب کی دوستی کے نعرے لگاتے ہیں۔تو انہیں سابقہ حکمرانوں کی تاریخ سامنے رکھنی چاہیے۔انہیں ہر یو ٹرن لینے سے پہلے ،ہر سرخ بتی پر اشارہ توڑنے سے پہلے ،ہر ایمرجنسی کا  سائرن بجانے  سے پہلے ، ہر میراتھن ریس سجانے سے پہلے ،ہر آپریشن اور لاٹھی چارج سے پہلے،امریکی اور برطانوی کارندوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے سے پہلے صرف ایک مرتبہ  اتنا سوچ لینا  چاہیے کہ زمانہ  محمد علی جناح کا احترام اور میر جعفرپر لعنت کیوں کرتا ہے؟ دنیا امام خمینی (رح) سے محبت اور شہنشاہ ایران سے نفرت کیوں کرتی ہے؟ تاریخ کے کھنڈر میں بھٹکنے والےلمحے اقوام عالم کو آج بھی یہی پیغام دے رہے ہیں کہ "سیاستدان اپنی  ملت کے دینی جذبوں ،مذہبی روایات ،ثقافتی اقدار ،اخلاقی رسومات،تہذیبی روثے اور استقلال و حریت کے امین ہوتے ہیں اور جو سیاست دان بھی اس امانت کی حفاظت میں اپنی جان قربان کر دیتاہے وہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا ہے لیکن جو ملّی امانتوں میں خیانت کرتا ہے دنیا میں اس کی ہڈیوں کی راکھ کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔کتابِ سیاست کا ورق ورق صدا دے رہاہے کہ اے خواب غفلت میں بد مست سیاستدانو! آج تمہیں اختیار ہے چاہو تو امر ہو جاو  اور چاہو تو  راکھ بن جاو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110